🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الشفاعة فى الحد دون السلطان:
حاکم کے پاس حدود کے سلسلے میں سفارش کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2339
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟"ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الشَّرِيفُ، تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ، أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی قریش کے نزدیک اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا: اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے؟ پھر انہوں نے کہا: اس کی جرأت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون کر سکے گا؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں، چنانچہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم الله کی حدود میں سفارش کرنے آئے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لئے برباد ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے، اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹ دیتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2339]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2348] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2648، 6788] ، [مسلم 1688] ، [أبوداؤد 4374] ، [ترمذي 1430] ، [نسائي 4914] ، [ابن ماجه 2547] ، [أبويعلی 4549] ، [ابن حبان 4402]
وضاحت: (تشریح حدیث 2338)
یہ حدیث اس پر واضح دلیل ہے کہ حدود میں کسی کی سفارش کرنا جائز نہیں، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ گرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اور محبوب تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حدود میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں ان سے کہہ دیا کہ یہ کیا تم اللہ کی حدود میں سفارش کر رہے ہو، اور ان کی سفارش کو رد کر دیا، یہی نہیں بلکہ خطبہ دیا اور ببانگِ دہل فرمایا کہ پہلی امتوں کی ہلاکت و بربادی کا سبب یہی تھا کہ وہ جس کو چاہتے جکڑ لیتے اور حد جاری کرتے اور جسے چاہے چھوڑ دیتے تھے۔
قربان جائیں نبیٔ رحمت و نبیٔ عدل و انصاف کے اوپر، فرمایا: میری سب سے چہیتی چھوٹی بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔
سبحان اللہ! کیا شانِ اطاعت گذاری اور رب کے احکامات کی پابندی ہے، گرچہ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ایسا فعل سرزد ہونا محال تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دے کر فرمایا کہ اگر وہ بھی ایسا کریں تو اللہ کے حکم کی تنفیذ میں کوئی تردد نہیں کروں گا۔
«صلى اللّٰه على محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليمًا كثيرًا كثيرا.»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة حافظ
Sunan Darmi Hadith 2339 in Urdu