🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما تقطع فيه اليد:
کتنی قیمت کی چیز میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2338
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَة، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2338]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2347] »
اس روایت کی سند صحیح اورحدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6795] ، [مسلم 1686] ، [أبوداؤد 4385] ، [نسائي 4923] ، [أبويعلی 5833] ، [ابن حبان 4461، 4464]
وضاحت: (تشریح حدیث 2337)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جب تک نصابِ سرقہ مکمل نہ ہو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، جمہور علماء کرام کی یہی رائے ہے۔
کچھ علماء نے قلیل و کثیر ہر چوری پر قطعِ ید کی سزا کو واجب قرار دیا ہے جو صحیح نہیں۔
اس سلسلے میں مذکورہ بالا حدیث صریح اور واضح ہے، جس سے آیتِ شریفہ: «﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾» کی تحدید و تخصیص ہو جاتی ہے۔
پھر نصاب کے بارے میں مختلف اقوال ہیں جن میں زیادہ مشہور یہ دو قول ہیں:
(1) پہلا یہ کہ سونے میں نصاب ایک دینار کا چوتھا حصہ، اور چاندی میں تین درہم۔
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ دس درہم نصاب ہے، اس سے کم میں قطع ید کی سزا نہیں دی جاسکتی، سفیان ثوری و احناف کا یہ قول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ نے مذکورہ بالا متفق علیہ احادیث سے استدلال کیا ہے کہ ایک دینار کا وزن چار ماشہ سونا، اور درہم ساڑھے تین ماشہ چاندی گویا چوتھائی دینار، اور تین درہم ہم وزن ہیں، اس سے کم قیمت چوری پر قطع ید کی سزا نافذ نہیں ہوگی، سونے یا چاندی کے علاوہ کسی چیز کی چوری کرے تو اس کا نصاب تین درہم کے حساب سے ہوگا، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال پر جس کی قیمت دس درہم تھی چور کا ہاتھ کاٹا۔
یہ روایت اولاً تو تین درہم والی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے ایک بار تین درہم کی ڈھال پر اور دوسری بار دس درہم کی قیمت کی ڈھال پر ہاتھ کاٹا، اس سے کم سے کم نصاب معلوم ہوا، نیز دس درہم والی روایت متفق علیہ ربع دینار یا تین درہم کے مقابلے میں کم درجہ کی ہے اس لئے امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب و مسلک ہی راجح اور قوی ہے۔
والله اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن أمية الأموي
Newإسماعيل بن أمية الأموي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة حافظ ثبت
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← إسماعيل بن أمية الأموي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أيوب السختياني
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت
Sunan Darmi Hadith 2338 in Urdu