علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب بأي أسماء الله حلفت لزمك:
اللہ تعالیٰ کے جس نام سے بھی قسم کھائی جائے وہ لازم ہو جائے گی
حدیث نمبر: 2387
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا "لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اس طرح ہوتی تھی: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوْبِ» نہیں دلوں کے پھیرنے والے کی قسم «وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري في القدر، [مكتبه الشامله نمبر: 2395] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6617] ، [أبوداؤد 3763] ، [ترمذي 1540] ، [نسائي 3770] ، [أبويعلی 5442] ، [ابن حبان 4332] ۔ بعض نسخوں میں «وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» مذکور نہیں ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6617] ، [أبوداؤد 3763] ، [ترمذي 1540] ، [نسائي 3770] ، [أبويعلی 5442] ، [ابن حبان 4332] ۔ بعض نسخوں میں «وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» مذکور نہیں ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2386)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جو گفتگو یا بات ہو رہی ہوتی تھی، اگر درست نہ ہوتی تو پہلے حرف «”لا“» سے اس کی تردید فرماتے، پھر اللہ کے صفاتی نام سے قسم کھاتے، «مقلب القلوب» دلوں کے پھیرنے والا یہ اللہ کا صفاتی نام ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ کے اسمِ ذاتی سے قسم ہوتی ہے اس طرح اسماءِ صفاتیہ سے بھی قسم کھانا جائز ہے، خواہ اس صفت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہو، جیسے علم و قدرت وغیرہ یا صفتِ فعلی ہو جیسے قہر اور غلبہ وغیرہ۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جو گفتگو یا بات ہو رہی ہوتی تھی، اگر درست نہ ہوتی تو پہلے حرف «”لا“» سے اس کی تردید فرماتے، پھر اللہ کے صفاتی نام سے قسم کھاتے، «مقلب القلوب» دلوں کے پھیرنے والا یہ اللہ کا صفاتی نام ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ کے اسمِ ذاتی سے قسم ہوتی ہے اس طرح اسماءِ صفاتیہ سے بھی قسم کھانا جائز ہے، خواہ اس صفت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہو، جیسے علم و قدرت وغیرہ یا صفتِ فعلی ہو جیسے قہر اور غلبہ وغیرہ۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← سالم بن عبد الله العدوي | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد عبيد الله بن موسى العبسي ← سفيان الثوري | ثقة يتشيع |
Sunan Darmi Hadith 2387 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي