🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب فى دية الجنين:
پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ، فَتَغَايَرَتَا، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً، وَجَعَلَهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، ایک دوسری سے غیرت کے سبب اختلاف میں مبتلا ہوئیں تو ایک نے دوسری پر لوہے کا ڈنڈا دے مارا، جس سے دوسری عورت فوت ہوگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ یہ جھگڑا لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے بدلے ایک لونڈی یا غلام کی دیت کا فیصلہ کیا اور مارنے والی عورت کے عاقلہ پر اس عورت کی دیت کو ڈالا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2425] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6910] ، [مسلم 1682] ، [أبوداؤد 4568] ، [ترمذي 1411] ، [نسائي 4836] ، [ابن ماجه 2633] و [ابن حبان 6016]
وضاحت: (تشریح حدیث 2416)
اس قضیے میں دو دیت ہیں۔
ایک تو عورت کی دیت، دوسرے پیٹ کے بچے کی دیت۔
تو عورت کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مارنے والی قاتل عورت کے عاقلہ پر ڈالی، اس کے شوہر پر نہیں، اور عاقلہ سے مراد باپ یعنی دهدیال والے اور اہلِ قبیلہ والے رشتے دار ہیں، پھر اس دیت کا وارث مقتولہ عورت کے بیٹوں اور شوہر کو قرار دیا، قاتلہ عورت کے اہلِ خانہ نے اس پر اعتراض کیا جس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے، اور اسقاطِ حمل یعنی بچے کے رحمِ مادر میں مر جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی یا غلام کو بھی آزاد کرنے کا اس عورت کے عاقلہ کو حکم دیا، ڈنڈا کیونکہ آلۂ قتل نہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبہ العمد یا قتلِ خطا قرار دیتے ہوئے اس میں دیت کو لازم قرار دیا، اور خلافِ قاعده قاتل کے بجائے عاقلہ پر دیت لازم کی اس لئے کہ قتل کرنے والی سے عمداً و قصداً یہ جرم سرزد نہیں ہوا تو اس کے ساتھ سب کی ہمدردی اور غمخواری ہو، (والله اعلم)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسىصحابي
👤←👥عبيد بن نضيلة الخزاعي، أبو معاوية
Newعبيد بن نضيلة الخزاعي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
وهو تابعي ثقة، مختلف في صحبته
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← عبيد بن نضيلة الخزاعي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت