سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب فى ذهاب العلم:
علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان
حدیث نمبر: 245
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْ النَّاسِ، وَلَكِنْ: قَبْضُ الْعِلْمِ قَبْضُ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءً جُهَّالًا، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اس کو لوگوں سے چھین لے، بلکہ علم کا اٹھانا علماء کا اٹھا لیا جانا ہے، پس جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، ان سے سوالات کئے جائیں گے اور وہ بنا علم کے فتویٰ دیں گے، اس لئے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 245] »
اس حدیث کی سند صحیح اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 100] ، [مسلم 2673] ، [صحيح ابن حبان 4571] ، [مسند الحميدي 593] ، [مصنف ابن أبى شيبه 19436] وغيرهم۔
اس حدیث کی سند صحیح اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 100] ، [مسلم 2673] ، [صحيح ابن حبان 4571] ، [مسند الحميدي 593] ، [مصنف ابن أبى شيبه 19436] وغيرهم۔
وضاحت: (تشریح حدیث 244)
اس حدیث میں علم اور علماء کے اٹھ جانے کی پیشین گوئی ہے جو پوری ہوتی جارہی ہے، اس لئے جاہلوں کو سردار بنانے اور بے علم علماء کے فتوؤں سے ہوشیار رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے۔
اس حدیث کی شرح میں مولانا راز صاحب تحریر فرماتے ہیں: پختہ عالم جو دین کی پوری سمجھ رکھتے ہوں اور احکامِ اسلام کے دقائق و رموز کو بھی جانتے ہوں، ایسے علماء ختم ہو جائیں گے، اور سطحی مدعیانِ علم باقی رہ جائیں گے، جو نا سمجھی کی وجہ سے محض تقلیدِ جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور اپنے فتوؤں سے خود گمراہ ہوں گے اور دیگر لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے، یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔
اس حدیث میں علم اور علماء کے اٹھ جانے کی پیشین گوئی ہے جو پوری ہوتی جارہی ہے، اس لئے جاہلوں کو سردار بنانے اور بے علم علماء کے فتوؤں سے ہوشیار رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے۔
اس حدیث کی شرح میں مولانا راز صاحب تحریر فرماتے ہیں: پختہ عالم جو دین کی پوری سمجھ رکھتے ہوں اور احکامِ اسلام کے دقائق و رموز کو بھی جانتے ہوں، ایسے علماء ختم ہو جائیں گے، اور سطحی مدعیانِ علم باقی رہ جائیں گے، جو نا سمجھی کی وجہ سے محض تقلیدِ جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور اپنے فتوؤں سے خود گمراہ ہوں گے اور دیگر لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے، یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمرو السهمي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون جعفر بن عون القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7307
| الله لا ينزع العلم بعد أن أعطاكموه انتزاعا |
صحيح البخاري |
100
| الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا |
صحيح مسلم |
6799
| الله لا ينتزع العلم من الناس انتزاعا ولكن يقبض العلماء فيرفع العلم معهم يبقي في الناس رءوسا جهالا يفتونهم بغير علم فيضلون ويضلون |
سنن ابن ماجه |
52
| الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ولكن يقبض العلم بقبض العلماء إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا |
سنن الدارمي |
245
| الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ولكن قبض العلم قبض العلماء إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤساءا جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا |
مشكوة المصابيح |
206
| إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء |
صحيح مسلم |
6796
| الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ولكن يقبض العلم بقبض العلماء إذا لم يترك عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا |
المعجم الصغير للطبراني |
77
| الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء ، حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤساء جهالا ، فسئلوا فأفتوا بغير علم ، فضلوا ، وأضلوا |
مسندالحميدي |
592
| إن الله عز وجل لا يقبض العلم انتزاعا ينزعه من قلوب الرجال، ولكن يقبضه بقبض العلماء فإذا لم يترك عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسألوهم فأفتوهم بغير علم فضلوا وأضلوا |
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمرو السهمي