🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب في سِهَامِ الْعَبِيدِ وَالصِّبْيَانِ:
مال غنیمت میں غلام اور بچوں کے سہم (حصے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2511
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، وَأَعْطَانِي سَيْفًا، فَقَالَ: "تَقَلَّدْ بِهَذَا".
عمیر ابواللحم کے آزاد کردہ غلام نے کہا: میں جب (جنگ) خیبر میں حاضر ہوا اس وقت (اپنے مالک کا) غلام تھا، چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانگی اسباب میں سے ایک تلوار عطا فرمائی اور فرمایا: ”اسے لٹکا لو۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2511]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2518] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2730] ، [ترمذي 1557] ، [ابن ماجه 2855] ، [ابن حبان 4831] ، [موارد الظمآن 1669]
وضاحت: (تشریح احادیث 2509 سے 2511)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مالِ غنیمت میں سے غلاموں کا کوئی حصہ نہیں۔
ہاں انعام کے طور پر انہیں کچھ دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر کو تلوار عطا فرمائی، اسی طرح بچے اور عورتوں کا بھی مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ہے، انہیں انعام کے طور پر کچھ دیا جائے گا۔
جمہور علماء اور اہلِ حدیث کا یہی مسلک ہے، جیسا کہ ابوداؤد میں تشریح ہے۔
والله اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمير مولى آبي اللحمصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو بكر
Newمحمد بن زيد القرشي ← عمير مولى آبي اللحم
ثقة
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← محمد بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن الخليل الخزاز، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن الخليل الخزاز ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2511 in Urdu