سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب فى النهي عن بيع المغانم حتى تقسم:
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2512
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمْيَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، وَمَكْحُولٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَم".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصوں کو تقسیم سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح نعم مكحول رأى أبا أمامة ولم يسمع منه ولكنه متابع عليه كما ترى، [مكتبه الشامله نمبر: 2519] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 7594، 7774] ، [ابن منصور 7759] ، [مجمع الزوائد 6569]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 7594، 7774] ، [ابن منصور 7759] ، [مجمع الزوائد 6569]
وضاحت: (تشریح حدیث 2511)
حصے تقسیم ہونے سے پہلے بیچنے سے غالباً اس لئے منع فرمایا کہ بیع مجہول ہے، نہ تعداد کا پتہ، نہ جنس و سامان کا علم، پھر بیع و شراء کیسے درست ہو سکتی ہے؟
حصے تقسیم ہونے سے پہلے بیچنے سے غالباً اس لئے منع فرمایا کہ بیع مجہول ہے، نہ تعداد کا پتہ، نہ جنس و سامان کا علم، پھر بیع و شراء کیسے درست ہو سکتی ہے؟
الرواة الحديث:
مكحول بن أبي مسلم الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي