سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب إخراج النبى صلى الله عليه وسلم من مكة:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے اخراج کا بیان
حدیث نمبر: 2546
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءِ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا بِالْحَزْوَرَةِ , يَقُولُ: "وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ".
سیدنا عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزوره (مکہ میں ایک مقام کا نام) میں اپنی سواری پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ”الله کی قسم (اے مکہ) تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور اللہ کی ساری زمین سے زیادہ تو الله کو محبوب ہے، اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نکلتا نہیں (بلکہ مکہ ہی میں رہتا)۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2552] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3925] ، [ابن ماجه 3108] ، [أبويعلی 5954] ، [ابن حبان 3708] ، [موارد الظمآن 1025]
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3925] ، [ابن ماجه 3108] ، [أبويعلی 5954] ، [ابن حبان 3708] ، [موارد الظمآن 1025]
وضاحت: (تشریح حدیث 2545)
ہر انسان کو اپنے وطن، اپنی جائے پیدائش سے محبت اور لگن ہوتی ہے، یہ ایک فطری امر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ سے بڑی انسیت و محبت تھی، لیکن مشرکینِ مکہ کے ظلم و ستم اور جبر و اکراہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنی پڑی اور مکہ چھوڑنا پڑا، اسی کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں کیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مکہ اور بیت اللہ الحرام زمین کا افضل ترین حصہ ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ پسند بھی ہے، اسی لئے مسجدِ حرام کی ایک نماز دیگر مساجد سے لاکھ گنا زیادہ ہے۔
ہر انسان کو اپنے وطن، اپنی جائے پیدائش سے محبت اور لگن ہوتی ہے، یہ ایک فطری امر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ سے بڑی انسیت و محبت تھی، لیکن مشرکینِ مکہ کے ظلم و ستم اور جبر و اکراہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنی پڑی اور مکہ چھوڑنا پڑا، اسی کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں کیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مکہ اور بیت اللہ الحرام زمین کا افضل ترین حصہ ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ پسند بھی ہے، اسی لئے مسجدِ حرام کی ایک نماز دیگر مساجد سے لاکھ گنا زیادہ ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عدي الثقفي، أبو عمرو، أبو عمر | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عدي الثقفي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عبد الله بن صالح الجهني، أبو صالح عبد الله بن صالح الجهني ← الليث بن سعد الفهمي | مقبول |
Sunan Darmi Hadith 2546 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عدي الثقفي