علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب فى بيع الحصاة:
کنکری کی بیع کا بیان
حدیث نمبر: 2599
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: إِذَا رَمَى بِحَصًا، وَجَبَ الْبَيْعُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے والی بیع اور حصاة (کنکری) کی بیع سے منع کیا ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: بیع الحصاۃ یہ ہے کہ جب کنکری پھینکے تو بیع مکمل ہوجائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2599]
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: بیع الحصاۃ یہ ہے کہ جب کنکری پھینکے تو بیع مکمل ہوجائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2605] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1513] ، [أبوداؤد 3376] ، [ترمذي 1230] ، [نسائي 4530] ، [ابن ماجه 2194]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1513] ، [أبوداؤد 3376] ، [ترمذي 1230] ، [نسائي 4530] ، [ابن ماجه 2194]
وضاحت: (تشریح حدیث 2598)
«بِيْعِ الْحِصَاةِ» کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کنکری پھینکے اور جس چیز پر وہ کنکری گرے اس کی بیع ہو جائے۔
یہ بیع جاہلیت میں مروج تھی۔
اور «بِيْعِ الْغَرَرِ» یہ ہے کہ جس چیز کے ملنے یا نہ ملنے میں تردد ہو، جیسے مچھلی دریا میں، پرندہ ہوا میں، اس کی بیع کرے، دونوں میں دھوکہ اور احتمالات ہیں جن کے سبب یہ بیع حرام و ناجائز ہے۔
اس کی اور بھی صورتیں ہیں جو شرح بلوغ المرام للشیخ صفی الرحمٰن میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
«بِيْعِ الْحِصَاةِ» کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کنکری پھینکے اور جس چیز پر وہ کنکری گرے اس کی بیع ہو جائے۔
یہ بیع جاہلیت میں مروج تھی۔
اور «بِيْعِ الْغَرَرِ» یہ ہے کہ جس چیز کے ملنے یا نہ ملنے میں تردد ہو، جیسے مچھلی دریا میں، پرندہ ہوا میں، اس کی بیع کرے، دونوں میں دھوکہ اور احتمالات ہیں جن کے سبب یہ بیع حرام و ناجائز ہے۔
اس کی اور بھی صورتیں ہیں جو شرح بلوغ المرام للشیخ صفی الرحمٰن میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 2599 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي