🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب الرجحان فى الوزن:
جھکا کر زیادہ تولنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنَ الْبَحْرَيْنِ إِلَى مَكَّةَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ أَوِ اشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ وَثَمَّ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ لِلْوَزَّانِ: "زِنْ وَأَرْجِحْ". فَلَمَّا ذَهَبَ يَمْشِي، قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سوید بن قیس سے مروی ہے کہ میں اور مخرمہ عبدی بحرین سے مکہ کی طرف کپڑا لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلتے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے پائجاموں کا بھاؤ کیا یا ہم سے پائجامے خریدے، وہیں ایک تولنے والا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تولو اور جھکا کر تولو (یعنی کم نہ تولو) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے تو لوگوں نے کہا: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2627] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3336] ، [ترمذي 1305] ، [نسائي 4606] ، [ابن ماجه 2220] ، [ابن حبان 5147] ، [الموارد 1444]
وضاحت: (تشریح حدیث 2620)
اس حدیث سے پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار میں جانا، پیدل چلنا، خرید و فروخت کرنا اور اچھی باتیں بتانا ثابت ہوا، نیز یہ کہ پائجامہ کپڑے خریدنا بھی ثابت ہوا، اور یہ کہ تولنے میں کمی نہیں کرنی چاہیے بلکہ زیادہ دینا باعث برکت ہے، کم تولنا باعثِ عذاب ہے۔
«﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ . الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ . وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ﴾ [المطففين: 1-3] » ترجمہ: بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی، جو لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم کر دیتے ہیں۔
یعنی لینے اور دینے کے ان کے پاس الگ الگ پیمانے ہیں، اور ناپ تول میں ڈنڈی مارتے ہیں، یہ بڑی بری اخلاقی بیماری ہے جس کا نتیجہ دنیا و آخرت میں تباہی ہے۔
ایک حدیث ہے: جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سويد بن قيس الذهلي، أبو صفوان، أبو مرحبصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← سويد بن قيس الذهلي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري
ثقة