علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب إذا قرئ على الرجل السلام كيف يرد:
جب کسی کو سلام کیا جائے تو جواب کس طرح دے؟
حدیث نمبر: 2674
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مبارکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے عائش! یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
انہوں نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دیکھ رہے تھے جو میں نہ دیکھتی تھی (یعنی جبریل علیہ السلام کو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2674]
انہوں نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دیکھ رہے تھے جو میں نہ دیکھتی تھی (یعنی جبریل علیہ السلام کو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2680] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6249] ، [مسلم 2447/91] ، [أبوداؤد 5232] ، [ترمذي 2693] ، [نسائي 3958] ، [ابن ماجه 3696] ، [أبويعلی 4781] ، [ابن حبان 7098] ، [الحميدي 279]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6249] ، [مسلم 2447/91] ، [أبوداؤد 5232] ، [ترمذي 2693] ، [نسائي 3958] ، [ابن ماجه 3696] ، [أبويعلی 4781] ، [ابن حبان 7098] ، [الحميدي 279]
وضاحت: (تشریح حدیث 2673)
اس حدیث سے کسی اجنبی کا اجنبی عورت کو سلام کرنا اور عورت کا اسے جواب دینا ثابت ہوا، نیز یہ کہ اس کا جواب وعلیکم السلام نہیں بلکہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سے دینا چاہیے۔
اس حدیث سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ روح القدس انہیں سلام کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک اور لطف و کرم بھی معلوم ہوا، اور یہ کہ لاڈ و پیار میں شوہر اپنی بیوی کا نام بدل کر کسی پیارے نام سے پکار سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائش!“ عائشہ نہیں کہا، «﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » ترجمہ: ”یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں عمدہ نمونہ موجود ہے۔
“
اس حدیث سے کسی اجنبی کا اجنبی عورت کو سلام کرنا اور عورت کا اسے جواب دینا ثابت ہوا، نیز یہ کہ اس کا جواب وعلیکم السلام نہیں بلکہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سے دینا چاہیے۔
اس حدیث سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ روح القدس انہیں سلام کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک اور لطف و کرم بھی معلوم ہوا، اور یہ کہ لاڈ و پیار میں شوہر اپنی بیوی کا نام بدل کر کسی پیارے نام سے پکار سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائش!“ عائشہ نہیں کہا، «﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » ترجمہ: ”یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں عمدہ نمونہ موجود ہے۔
“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
Sunan Darmi Hadith 2674 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق