🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب: {وأنذر عشيرتك الأقربين}:
اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَلِّبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي مَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب الله تعالیٰ نے یہ آیت: « ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِيْنَ﴾ » (شعراء: 214/26)، اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرایئے نازل فرمائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! تم اپنی جان کو الله تعالیٰ سے (اعمالِ صالحہ کے بدلے) مول لے لو (بچالو)، میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا (یعنی اللہ کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکوں گا)۔ اے عبدمناف کے بیٹو! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ اے عباس (آپ کے چچا) عبدالمطلب کے بیٹے! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ اے صفیہ (آپ کی پھوپھی) عبدالمطلب کی بیٹی! میں اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آنے کا۔ اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی! تو چاہے تو میری بیٹی میرا مال مانگ لے، میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2774] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2753] ، [مسلم 355/204] ، [ترمذي 3185] ، [نسائي 3664] ، [ابن حبان 646]
وضاحت: (تشریح حدیث 2766)
آیتِ شریفہ کے عین مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے خاص کنبہ و قبیلہ کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا، پھر اپنے باپ دادا کے خاص افراد چچا و پھوپھی کو، پھر خاص الخاص اپنی بیٹی کو اس حقیقت سے آگاہ کیا، دنیا میں تو میں تمہاری مانگ پوری کر سکتا ہوں لیکن آخرت میں تمہارے بھی کسی کام نہ آسکوں گا، اور وہاں تو سب کا عمل اور الله کا رحم ہی کام آئے گا: «﴿وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا﴾ [النساء: 124] » جو ایمان والا ہو، مرد یا عورت، اور وہ نیک اعمال کرے تو یقیناً ایسے ہی لوگ جنت میں جائیں گے، اور کھجور کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت