🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب النهي أن يقول مطرنا بنوء كذا وكذا:
یہ کہنے کی ممانعت کہ فلاں اور فلاں تارے کی وجہ سے بارش ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2797
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَوْ حَبَسَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ أُمَّتِي عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ أُنْزِلَ، لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ: هُوَ بِنَوْءِ مِجْدَحٍ". يقَالَ: الْمِجْدَحُ كَوْكَبٌ. يُقَالُ لَهُ: الدَّبَرَانُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر الله تعالیٰ دس سال تک میری امت سے بارش کو روک لے پھر بارش برسا دے تو میری امت میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر ہو جائے اور وہ کہنے لگیں کہ: یہ مجدح تارے کی وجہ سے ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مجدح ایک کوکب ہے جس کو دبران کہا جاتا ہے۔ (دورِ جاہلیت میں عرب کا عقیدہ تھا کہ مجدح کی وجہ سے بارش ہوتی ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2797]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2804] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 1312] ، [ابن حبان 188] ، [موارد الظمآن 606] ، [الحميدي 832] ۔ اور اس کا شاہد صحیح صحیحین میں ہے۔ دیکھئے: [بخاري 846] ، [مسلم 71] جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں جب بارش ہوئی تو نمازِ فجر کے بعد فرمایا: ”الله تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں کچھ مومن رہے اور کچھ کافر ہوگئے، جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ مومن ہے، اور جس نے کہا ہم پر یہ بارش تاروں (کواکب) کے اثر سے ہوئی ہے وہ میرا منکر ہوا اور تاروں کی تاثیر پر ایمان لایا“ ( «أو كما قال عليه السلام»
وضاحت: (تشریح حدیث 2796)
اس حدیث میں ایمان کی حقیقت اور نزاکت کا ذکر ہے، نیز یہ کہ معمولی بات کہنے سے انسان مومن ہو جاتا ہے یا کافر، یہ کہنا کہ فلاں برج یا فلاں ستارہ مفید ہے اور اس کے اچھے یا برے اثرات ہیں کفر میں داخل ہے، سب اللہ کی مخلوق ہیں، بذاتِ خود کسی میں تصرف کی طاقت و قوت نہیں ہے، سب کچھ اللہ کے حکم سے ہی ظہور پذیر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو ایمان کی حقیقت سمجھنے کی اور کفر و شرک اور بدعت سے دور رہنے کی توفیق بخشے، آمین۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عتاب بن حنين المكي
Newعتاب بن حنين المكي ← أبو سعيد الخدري
مقبول
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عتاب بن حنين المكي
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عمرو بن دينار الجمحي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت