🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب ما قيل فى ذي الوجهين:
دو چہرے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الرُّكَيْنِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ شَرِيكٌ وَرُبَّمَا قَالَ: النُّعْمَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا، كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ".
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو منہ (دو رُخ) ہوں قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2806] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4873] ، [أبويعلی 1620] ، [ابن حبان 5756] ، [الموارد 1979]
وضاحت: (تشریح حدیث 2798)
ذوالوجہین سے مراد دو رُخا دوغلا آدمی ہے جو کچھ لوگوں کے پاس ایک رخ سے اور دوسروں کے پاس دوسرے رخ سے جاتا ہے، جیسا کہ [بخاري 6058] و [مسلم 2526] میں ہے، یعنی ایسا انسان جو ہر جگہ لگی لپٹی، منہ دیکھی بات کرے، حق ناحق کا لحاظ نہ رکھے، اس کو حدیث میں شر الناس بہت برا آدمی کہا گیا ہے، اور اس حدیث میں اس کی عقوبت و سزا یہ بیان کی گئی کہ قیامت کے دن اس کی دو زبان ہونگی جس سے وہ منافق اور دوغلے کی حیثیت سے پہچانا جائے گا، اور یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔
الله تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے، حق بات کہنے کی توفیق بخشے اور دو رُخے پن سے بچائے۔
آمین۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظانصحابي
👤←👥النعمان بن سبرة الكوفي
Newالنعمان بن سبرة الكوفي ← عمار بن ياسر العنسي
مقبول
👤←👥ركين بن الربيع الفزاري، أبو الربيع
Newركين بن الربيع الفزاري ← النعمان بن سبرة الكوفي
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← ركين بن الربيع الفزاري
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥الأسود بن عامر الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالأسود بن عامر الشامي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة