الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب فى قول النبى صلى الله عليه وسلم: لا تطروني :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”مجھے میرے مرتبے سے نہ بڑھاؤ“
حدیث نمبر: 2819
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَا تُطْرُونِي كَمَا تُطْرِي النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَلَكِنْ قُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم کو نصاریٰ نے ان کے مرتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے، (بلکہ میرے متعلق یہی) کہا کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2826] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3445] ، [أبويعلی 153] ، [ابن حبان 413] ، [الحميدي 27]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3445] ، [أبويعلی 153] ، [ابن حبان 413] ، [الحميدي 27]
وضاحت: (تشریح حدیث 2818)
«اطراء» لغت میں مدح کرتے ہوئے حد سے زیادہ بڑھ جانے کو کہتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام نے سختی سے منع فرمایا اور بتایا کہ میرا رتبہ اتنا ہی رکھنا جتنا مجھے الله تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میں اس کا بندہ ہوں اور رسول بھی، بس اس سے زیادہ مجھے نہ بڑھانا، نہ میری مدح سرائی میں اس حد سے آگے بڑھنا، اللہ کے بندے، رسول، اللہ کے حبیب، اللہ کے خلیل، اشرف الانبیاء و المرسلین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی یہ ہی حد ہے۔
الله تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بندہ قرار دیا: «﴿لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ﴾ [الجن: 19] » ، «﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ﴾ [الإسراء: 1] » اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نہایت درجہ خوش تھے۔
لیکن آج کے دور میں نعت خوانی میں لوگ اتنے زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بلکہ بعض تو نصاریٰ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں، انہوں نے اپنے نبی کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔
آج کا نام نہاد مسلمان کہتا ہے:
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے زمیں پر مصطفیٰ ہو کر
«نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ» یہ شرک نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا۔
خواجہ الطاف حسین رحمہ اللہ نے ان تعلیمات کو بڑے دلکش انداز میں ذکر کیا ہے، سنئے:
تم اوروں کی مانند دھوکہ نہ کھانا
کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انسان ہیں واں جس طرح سر فگندہ
اسی طرح ہوں میں بھی اک اس کا بندہ
بنانا نہ تربت کو میری صنم تم
نہ کرنا مری قبر پر سر کو خم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم
کہ بیچارگی میں برابر ہیں ہم تم
مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ ہوں اس کا اور ایلچی بھی
«اطراء» لغت میں مدح کرتے ہوئے حد سے زیادہ بڑھ جانے کو کہتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام نے سختی سے منع فرمایا اور بتایا کہ میرا رتبہ اتنا ہی رکھنا جتنا مجھے الله تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میں اس کا بندہ ہوں اور رسول بھی، بس اس سے زیادہ مجھے نہ بڑھانا، نہ میری مدح سرائی میں اس حد سے آگے بڑھنا، اللہ کے بندے، رسول، اللہ کے حبیب، اللہ کے خلیل، اشرف الانبیاء و المرسلین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی یہ ہی حد ہے۔
الله تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بندہ قرار دیا: «﴿لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ﴾ [الجن: 19] » ، «﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ﴾ [الإسراء: 1] » اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نہایت درجہ خوش تھے۔
لیکن آج کے دور میں نعت خوانی میں لوگ اتنے زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بلکہ بعض تو نصاریٰ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں، انہوں نے اپنے نبی کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔
آج کا نام نہاد مسلمان کہتا ہے:
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے زمیں پر مصطفیٰ ہو کر
«نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ» یہ شرک نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا۔
خواجہ الطاف حسین رحمہ اللہ نے ان تعلیمات کو بڑے دلکش انداز میں ذکر کیا ہے، سنئے:
تم اوروں کی مانند دھوکہ نہ کھانا
کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انسان ہیں واں جس طرح سر فگندہ
اسی طرح ہوں میں بھی اک اس کا بندہ
بنانا نہ تربت کو میری صنم تم
نہ کرنا مری قبر پر سر کو خم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم
کہ بیچارگی میں برابر ہیں ہم تم
مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ ہوں اس کا اور ایلچی بھی
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس عبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي عثمان بن عمر العبدي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
عبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي