سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب النظر إلى الله تعالى:
اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ: الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا: أَنَّ النَّاسَ , قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:"فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودہویں کا چاند دیکھنے میں جب کہ اس کے نزدیک کہیں بادل نہ ہو شبہ ہوتا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ہرگز نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اور کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی شبہ ہوتا ہے جبکہ اس کے نزدیک کہیں بادل نہ ہو؟“ عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم رب العزت کو اسی طرح دیکھو گے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2843] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 806] ، [مسلم 182] ، [أبويعلی 6360] ، [ابن حبان 7429] ، [الحميدي 1212]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 806] ، [مسلم 182] ، [أبويعلی 6360] ، [ابن حبان 7429] ، [الحميدي 1212]
وضاحت: (تشریح حدیث 2835)
یعنی جس طرح چاند و سورج کو دیکھتے ہو اسی طرح اپنے رب کو دیکھو گے، اور اس رویت میں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔
اس حدیث سے ربِ کائنات کا قیامت کے دن دیدار ثابت ہوا جس سے اہل جنّت کو جنت اور جنت کی نعمتیں دینے کے بعد مشرف کیا جائے گا۔
دیکھئے: تفسیرِ آیت: «﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يونس: 26] »
یعنی جس طرح چاند و سورج کو دیکھتے ہو اسی طرح اپنے رب کو دیکھو گے، اور اس رویت میں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔
اس حدیث سے ربِ کائنات کا قیامت کے دن دیدار ثابت ہوا جس سے اہل جنّت کو جنت اور جنت کی نعمتیں دینے کے بعد مشرف کیا جائے گا۔
دیکھئے: تفسیرِ آیت: «﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يونس: 26] »
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عطاء بن يزيد الجندعي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو هريرة الدوسي