سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب فى سجود المؤمنين يوم القيامة:
قیامت کے دن صرف ایمان والوں کے سجدہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2838
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْعِبَادَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، نَادَى مُنَادٍ: لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَيَلْحَقُ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَيَبْقَى النَّاسُ عَلَى حَالِهِمْ، فَيَأْتِيهِمْ، فَيَقُولُ: مَا بَالُ النَّاسِ ذَهَبُوا وَأَنْتُمْ هَاهُنَا؟، فَيَقُولُونَ: نَنْتَظِرُ إِلَهَنَا، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: إِذَا تَعَرَّفَ إِلَيْنَا، عَرَفْنَاهُ، فَيَكْشِفُ لَهُمْ عَنْ سَاقِهِ فَيَقَعُونَ سُجُودًا، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلا يَسْتَطِيعُونَ سورة القلم آية 42 وَيَبْقَى كُلُّ مُنَافِقٍ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُودُهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”الله تعالیٰ بندوں کو جب ایک سرزمین پر جمع کرے گا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: ہر قوم جس کی عبادت کرتی تھی اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ لوگ جس کی پوجا کرتے تھے (دنیا میں) اس کے پیچھے لگ جائیں گے، اور کچھ لوگ اسی حال میں باقی رہ جائیں گے (یعنی کسی کے پیچھے نہیں جائیں گے) اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا: کیا بات ہے اور سب لوگ چلے گئے اور تم یہیں پر ہو؟ وہ کہیں گے: ہم اپنے معبود کا انتظار کر رہے ہیں، الله تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: اگر تم ہمیں پہچان بتاؤ تو اپنے رب کو پہچان لیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنی پنڈلی کھولے گا اور وہ سجدے میں گر پڑیں گے۔“ یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی ہے: « ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ . . . . . .﴾ » (القلم: 42/68) ترجمہ: جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر منافق کھڑا رہ جائے گا اور سجدہ نہ کر سکے گا، پھر مومنین کو جنت کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2838]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر منافق کھڑا رہ جائے گا اور سجدہ نہ کر سکے گا، پھر مومنین کو جنت کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2838]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2845] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6573، 7437] ، [مسلم 182] ، [ترمذي 2557] ، [أبويعلی 6360] ، [ابن حبان 7429] ، [الحميدي 1212]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6573، 7437] ، [مسلم 182] ، [ترمذي 2557] ، [أبويعلی 6360] ، [ابن حبان 7429] ، [الحميدي 1212]
وضاحت: (تشریح حدیث 2837)
اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کا کلام فرمانا ثابت ہوتا ہے، حشر و جمع، رؤیت و دیدارِ الٰہی، پنڈلی کا ثبوت، اور صرف ایمان والوں کا سجدہ کرنا ثابت ہوا۔
بخاری شریف میں بہت صراحت سے ہے کہ منافقین سجدہ نہ کر سکیں گے۔
الله تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں جہاں میں صرف اپنے لئے سجدے کی ہمیں توفیق بخشے، آمین۔
پنڈلی کا ہونا اور کھولا جانا اس پر ایمان لازم ہے، اور اس کی تأویل و تمثیل جائز نہیں، نہ اس سلسلے میں غور و خوض کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کا کلام فرمانا ثابت ہوتا ہے، حشر و جمع، رؤیت و دیدارِ الٰہی، پنڈلی کا ثبوت، اور صرف ایمان والوں کا سجدہ کرنا ثابت ہوا۔
بخاری شریف میں بہت صراحت سے ہے کہ منافقین سجدہ نہ کر سکیں گے۔
الله تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں جہاں میں صرف اپنے لئے سجدے کی ہمیں توفیق بخشے، آمین۔
پنڈلی کا ہونا اور کھولا جانا اس پر ایمان لازم ہے، اور اس کی تأویل و تمثیل جائز نہیں، نہ اس سلسلے میں غور و خوض کرنا چاہیے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن يسار، أبو الحباب سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر ابن إسحاق القرشي ← سعيد بن يسار | صدوق مدلس | |
👤←👥يونس بن بكير الشيباني، أبو بكر، أبو بكير يونس بن بكير الشيباني ← ابن إسحاق القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن يزيد الحزامي محمد بن يزيد الحزامي ← يونس بن بكير الشيباني | صدوق حسن الحديث |
سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي