الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب فى الإخوة والأخوات والولد وولد الولد:
بھائی، بہن، بیٹے اور پوتے کا بیان
حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ: أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَثْبَتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَأَهْلَ الْمَدِينَةِ "يُشَرِّكُونَ فِي ابْنَتَيْنِ وَبِنْتِ ابْن، ٍوَابْنِ ابْن، وَأُخْتَيْنِ".
مسروق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ بیٹی، پوتی اور دو بہنوں کو وراثت میں شریک کرتے تھے تو علقمہ نے ان سے کہا کہ ایسا کہنے والوں میں کوئی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ (پختہ علم والے) تھے؟ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور اہلِ مدینہ کو دیکھا کہ وہ ان کو شریک کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2937] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ مسئلہ رقم (2927) میں گذر چکا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11129، 11130] ، [عبدالرزاق 19013] ، [ابن منصور 18] ، [المحلی لابن حزم 239/9]
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ مسئلہ رقم (2927) میں گذر چکا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11129، 11130] ، [عبدالرزاق 19013] ، [ابن منصور 18] ، [المحلی لابن حزم 239/9]
وضاحت: (تشریح حدیث 2928)
اس قول کے مطابق بیٹیاں اور بہنیں دو ثلث، اور پوتی و پوتے ایک ثلث میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہوگی۔
واللہ اعلم۔
اس قول کے مطابق بیٹیاں اور بہنیں دو ثلث، اور پوتی و پوتے ایک ثلث میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہوگی۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
مسروق بن الأجدع الهمداني ← زيد بن ثابت الأنصاري