🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب من أحب الوصية ومن كره:
جس کو وصیت کرنا پسند ہو یا ناپسند ہو اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3258
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ دَرَاهِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ، كَالَّذِي يُهْدِي بَعْدَ مَا شَبِعَ".
ابوحبیبہ نے کہا: میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ایک آدمی نے اپنے روپئے پیسے فی سبیل اللہ وقف کر دیئے ہوں اس کا کیا حکم ہے؟ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنہ نے فرمایا: جو آدمی اپنی موت کے وقت صدقہ کرتا ہے، یا آزادی دیتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو شکم سیر ہونے کے بعد ہدیہ دیتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3269] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3968] ، [ترمذي 2123] ، [نسائي 3644] ، [ابن حبان 3336] ، [موارد الظمآن 1219] ، [عبدالرزاق 16740]
وضاحت: (تشریح احادیث 3255 سے 3258)
ان احادیث میں صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب ہے۔
صحیح متفق علیہ حدیث میں ہے: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کون سا صدقہ اجر کے اعتبار سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ کرنا جب کہ تو تندرست و توانا ہو، مال کی حرص دل میں ہو، تجھے فقر کا اندیشہ ہو، تونگری کی امید ہو، اور تو صدقہ کرنے میں تأخیر نہ کر، یہاں تک کہ جب روح گلے تک پہنچ جائے تو کہے: فلاں کے لئے اتنا، فلاں کے لئے اتنا، جب کہ وہ فلاں (وارث) کے لئے ہو چکا۔
[بخاري: 1419] و [مسلم: 1032] ۔
معلوم ہوا صدقہ وہی افضل ہے جو انسان صحت کی حالت میں کرے، موت کے آثار شروع ہونے کے بعد صدقہ کرنا ویسے ہی ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا: پیٹ بھرنے کے بعد باقی ماندہ کھانا کوئی خیرات کرے۔
نیز یہ کہ موت کے وقت آدمی ایک تہائی مال سے زیادہ صدقہ کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اس وقت مال وارثوں کا حق بن جاتا ہے، جسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حد مقرر فرما دی کہ موت کے وقت کوئی اپنا مال صدقہ کرے تو وہ ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، اس لئے آدمی کو صدقہ کرنے میں تأخیر نہیں کرنی چاہیے۔
(حافظ صلاح الدین یوسف)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥أبو حبيبة الطائي، أبو حبيبة
Newأبو حبيبة الطائي ← عويمر بن مالك الأنصاري
مقبول
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← أبو حبيبة الطائي
ثقة مكثر
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة