سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب إذا مات الموصى قبل الموصي:
وصیت کرنے والے سے پہلے اگر موصی لہ کا انتقال ہو جائے
حدیث نمبر: 3335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيِّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُجِيزُهَا مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ.
ابواسحاق السبیعی نے کہا: مجھ سے بیان کیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسی وصیت کو جائز قرار دیتے تھے۔ (یعنی) حسن رحمہ اللہ کے قول کے مطابق انہوں نے بھی کہا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3346] »
اس حدیث کی سند بھی اشعث کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10987]
اس حدیث کی سند بھی اشعث کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10987]
وضاحت: (تشریح احادیث 3332 سے 3335)
ان اقوال کو اگر صحیح مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وصیت کرنے والے (وصی یا موصی) سے پہلے موصی لہ (جس کے لئے وصیت کی ہے) مرجائے تو یہ وصیت موصی لہ کے وارثین کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
واللہ اعلم۔
ان اقوال کو اگر صحیح مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وصیت کرنے والے (وصی یا موصی) سے پہلے موصی لہ (جس کے لئے وصیت کی ہے) مرجائے تو یہ وصیت موصی لہ کے وارثین کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← علي بن أبي طالب الهاشمي