سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فضل سورة البقرة:
سورہ البقرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3407
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَا مِنْ بَيْتٍ يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضَرِيطٌ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے اس سے شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3407]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فطر متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي، [مكتبه الشامله نمبر: 3418] »
یہ اثر موقوف ہے اور سند ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [طبراني فى الكبير 138/9، 8643] ، [الأوسط 2269] ، [الصغير 53/1] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2379] ، [الحاكم 2063] و [ابن الضريس 175] ۔ مزید دیکھئے: [الحاكم 258/2، 3060، وقال: صحيح الاسناد دو لم يخرجاه و وافقه الذهبي]
یہ اثر موقوف ہے اور سند ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [طبراني فى الكبير 138/9، 8643] ، [الأوسط 2269] ، [الصغير 53/1] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2379] ، [الحاكم 2063] و [ابن الضريس 175] ۔ مزید دیکھئے: [الحاكم 258/2، 3060، وقال: صحيح الاسناد دو لم يخرجاه و وافقه الذهبي]
وضاحت: (تشریح حدیث 3406)
یعنی شیطان ڈر کر بھاگتا ہے اور ہوا نکل جاتی ہے، انسان بھی ڈر جائے تو پیشاب یا پائخانہ خطا ہو جاتا ہے۔
یعنی شیطان ڈر کر بھاگتا ہے اور ہوا نکل جاتی ہے، انسان بھی ڈر جائے تو پیشاب یا پائخانہ خطا ہو جاتا ہے۔
الرواة الحديث:
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود