سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب التوبيخ لمن يطلب العلم لغير الله:
بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: "لَا تُحَدِّثْ الْبَاطِلَ الْحُكَمَاءَ فَيَمْقُتُوكَ، وَلَا تُحَدِّثْ الْحِكْمَةَ لِلسُّفَهَاءِ فَيُكَذِّبُوكَ، وَلَا تَمْنَعْ الْعِلْمَ أَهْلَهُ فَتَأْثَمَ، وَلَا تَضَعْهُ فِي غَيْرِ أَهْلِهِ فَتُجَهَّلَ، إِنَّ عَلَيْكَ فِي عِلْمِكَ حَقًّا كَمَا أَنَّ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ حَقًّا".
کثیر بن مرہ نے کہا: باطل کو حکماء (دانشمندوں) سے بیان نہ کرو، وہ تم سے نفرت کرنے لگیں گے، اور حکمت کی بات سفہاء (بےوقوفوں) سے نہ کہو، وہ تمہیں جھٹلا دیں گے، علم کے اہل لوگوں سے علم کو نہ چھپاؤ تم گنہگار ہو گے، اور نااہل لوگوں کو علم نہ سکھاؤ وہ تم کو جاہل سمجھیں گے، تمہارے علم کا تمہارے اوپر حق ہے جس طرح سے تمہارے مال میں تمہارا حق ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 390] »
اس کی سند صحیح ہے، اور یہ کثیر بن مرة کا قول ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد 386] ، [المحدث الفاصل 804] ، [الجامع لأخلاق الراوي 790]
اس کی سند صحیح ہے، اور یہ کثیر بن مرة کا قول ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد 386] ، [المحدث الفاصل 804] ، [الجامع لأخلاق الراوي 790]