🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب من لم ير كتابة الحديث:
حدیث کی عدم کتابت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 499
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: "مَا كَتَبْتُ سَوْدَاءَ فِي بَيْضَاءَ، وَلَا اسْتَعَدْتُ حَدِيثًا مِنْ إِنْسَانٍ".
ابن شبرمہ نے کہا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میں نے سوداء کو بیضاء میں کبھی نہیں لکھا، اور نہ کبھی کسی انسان سے دوبارہ کوئی حدیث سننے کی درخواست کی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 499]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 499] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 365] ، [العلم 28] ، [تاريخ بغداد 229/12] ، [الجامع لأخلاق الراوي 1832] ، [جامع بيان العلم 368] و [الحلية 321/4]
وضاحت: (تشریح حدیث 498)
اس سے ان کی قوّتِ حافظ کا پتہ چلتا ہے، ان تمام آثار سے یہ معلوم ہوا کہ اسلاف کرام کتابتِ حدیث سے زیادہ قوّتِ حافظہ کو ترجیح دیتے تھے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے [فتح الباري 208/1] میں لکھا ہے، اسلاف کرام نے کہا ہے: صحابہ کرام کی ایک جماعت کچھ بھی لکھنے کو ناپسند کرتی تھی، وہ یہ چاہتے تھے کہ جس طرح انہوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دلوں میں محفوظ رکھا ہے اسی طرح وہ بھی حفظ کریں، لکھیں نہیں، لیکن جب انہوں نے سستی و کاہلی اور طلابِ علم میں پست ہمتی دیکھی تو علمِ نبوّت کے ضائع ہو جانے سے ڈر گئے اور لکھنے کی اجازت دے دی۔
جیسا کہ اگلے باب میں آ رہا ہے۔
 
Sunan Darmi Hadith 499 in Urdu