🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب مَنْ لَمْ يَرَ كِتَابَةَ الْحَدِيثِ:
حدیث کی عدم کتابت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ، فَلْيَمْحُهُ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھو، اور کسی نے مجھ سے قرآن کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا ہے اسے مٹا دے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 464] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أبى يعلی 1288] ، [صحيح ابن حبان 64] ، [تقييد العلم ص: 31-32] ۔ نیز دیکھئے: [فتح الباري 208/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 460 سے 464)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: صحابہ و تابعین کی ایک جماعت نے حدیث لکھنے کو ناپسند کیا اور یہ اچھا سمجھا تھا کہ جس طرح انہوں نے حدیث یاد کی وہ بھی حدیث حفظ کر لیں۔
اور کتابتِ حدیث سے ابتدائے امر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، اور یہ اس لئے کہ قرآن و حدیث خلط ملط نہ ہو جائے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھنے کی اجازت دیدی تھی، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما وغیرہ لکھا کرتے تھے جیسا کہ اگلے باب میں آرہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّهُمْ اسْتَأْذَنُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَكْتُبُوا عَنْهُ"فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمْ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتابت حدیث کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 465] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2667] ، [الالماع للقاضي ص: 148] ، [المحدث الفاصل 362] ، [الجامع للخطيب 461] ، [تقييد العلم ص: 32] و [جامع بيان العلم 335] یہ حکم شروع اسلام میں تھا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 466
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "يَا شِبَاكُ، أَرُدُّ عَلَيْكَ، يَعْنِي: الْحَدِيثَ؟ مَا أَرَدْتُ أَنْ يُرَدَّ عَلَيَّ حَدِيثٌ قَطُّ".
امام شعبی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: اے شباک! کیا تمہارے لئے کوئی حدیث لوٹائی گئی ہے؟ میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے بھی کوئی حدیث دوبارہ لوٹائی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 466]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 466] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 1981] ، [الجامع 461] ، لیکن اس میں ہے: «يقول يا شباك أرد عليك؟ ما قلت لأحد قط رد على (باب) إعاده المحدث الحديث حال الرواية ليحفظ» ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ: جَاءَ الزُّهْرِيُّ بِحَدِيثٍ فَلَقِيتُهُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثْتَنَا بِهِ، قَالَ: "وَتَسْتَعِيدُ الْحَدِيثَ؟، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا كُنْتَ تَسْتَعِيدُ الْحَدِيثَ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: وَلَا تَكْتُبُ؟، قَالَ: لَا".
عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ کو کہتے سنا کہ ابن شہاب زہری ایک حدیث کے کر آئے، میں نے ان سے راستے میں ملاقات کی اور لگام تھام لی، پھر عرض کیا: اے ابوبکر! مجھے وہی حدیث دوبارہ سنایئے جو آپ بیان کر چکے ہیں، فرمایا: کیا دوبارہ سننا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: آپ دوبارہ نہیں سنتے تھے؟ فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا: اور لکھتے بھی نہیں تھے؟ فرمایا: نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 467]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 467] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 1381] ، [المحدث الفاصل 782] و [الجامع 461]
وضاحت: (تشریح احادیث 464 سے 467)
اس سے ان کی قوّتِ حافظہ، توجہ اور چاہت ثابت ہوتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ:"كَانَ قَتَادَةُ يَكْرَهُ الْكِتَابَةَ، فَإِذَا سَمِعَ وَقْعَ الْكِتَابِ، أَنْكَرَهُ وَالْتَمَسَهُ بِيَدِهِ"..
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: قتادہ حدیث لکھنا ناپسند کرتے تھے، اور جب معلوم ہوتا کہ لکھا جا چکا ہے تو ناپسند کرتے اور اپنے ہاتھ سے مٹا دیتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 468] »
محمد بن کثیر کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ نیز امام اوزاعی رحمہ اللہ سے کتابتِ حدیث کی اباحت بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 340]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: "كَانَ الْأَوْزَاعِيُّ يَكْرَهُهُ"..
ابوالمغيرہ (حجاج بن عبدالقدوس) نے خبر دی کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اس کو مکروہ سمجھتے تھے (یعنی حدیث کی کتابت)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 469] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں دوسری جگہ نہیں مل سکی۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ"أَنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ يَكْرَهُ الْكِتَابَ"، يَعْنِي: الْعِلْمَ.
منصور سے مروی ہے کہ امام ابراہیم نخعی علم کی کتابت مکروہ سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 470] »
اس کی سند صحیح ہے، اور امام ابراہیم نخعی نے ایسا فرمایا ہے۔ دیکھئے: [العلم 160]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا كِتَابًا، لَاتَّخَذْتُ رَسَائِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مجھے کتاب بنانی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط کی کتاب بناتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 471] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 48] و [المحدث الفاصل 366، 368]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: "رَأَيْتُ حَمَّادًا يَكْتُبُ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَنْهَكَ؟، قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَطْرَافٌ".
عبداللہ بن عون سے مروی ہے کہ میں نے حماد کو امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے پاس لکھتے دیکھا تو امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: کیا میں نے تم کو لکھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ حماد نے جواب دیا کہ بس اطراف لکھے ہیں (یعنی اشارے لکھے ہیں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 472] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6481] ، [العلم 126، 135، 161] ، [جامع بيان العلم 400] ، [حلية الأولياء 225/4]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ لِي عَبِيدَةُ: "لَا تُخَلِّدَنَّ عَلَيَّ كِتَابًا".
ابراہیم سے مروی ہے کہ عبیدہ نے مجھ سے کہا: میری طرف سے کوئی کتاب نہ بنانا۔ (یعنی کچھ لکھنا نہیں کہ کتاب بن جائے اور باقی رہے۔) [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 473] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6494، 6502] ، [جامع بيان العلم 362] و [تقييد العلم ص: 46]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں