یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب البلاغ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتعليم السنن:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
حدیث نمبر: 563
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَالِيَةِ، أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مُفْتِيًا؟، فَقُلْتُ: "لَا، وَلَكِنْ لَا آمَنُ أَنْ تَذْهَبُوا وَنَبْقَى"، فَقَالَ:"صَدَقَ أَبُو الْعَالِيَةِ".
ابوالعالیہ نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: اے ابوالعالیہ! کیا تم مفتی بننا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن اس سے مامون بھی نہیں ہوں کہ آپ لوگ رخصت ہو جائیں، اور ہم باقی رہ جائیں، فرمایا: ابوالعالیہ صحیح کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 563] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اسے امام دارمی کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اسے امام دارمی کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 563 in Urdu
أبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي