یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب بيان الصلوات التي هي احد اركان الإسلام:
باب: نمازوں کا بیان جو اسلام کا ایک رکن ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 11 ترقیم شاملہ: -- 101
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ".
اسماعیل بن جعفر نے ابوسہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، مالک سے حدیث کی طرح روایت کی، سوائے اس کے کہ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا، اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کر دکھایا“ یا (فرمایا:) ”جنت میں داخل ہو گا، اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کر دکھایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 101]
امام صاحب یہی روایت دوسرے استاد سے نقل کرتے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کامیاب ہوا، اس کے باپ کی قسم! اگر سچا ہے، یا فرمایا: جنت میں داخل ہوگا اس کے باپ کی قسم! اگر سچا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 11
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث السابق برقم (100)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 101 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 101
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
وأَبِيْهِ:
اس کے باپ کی قسم،
آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے باپ کی قسم سے منع کرنے کے باوجود،
باپ کی قسم اٹھائی ہے اس کا جواب یہ ہے (1)
یہ قسم سے منع کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
(2)
یہ عربوں کے کلام ومحاورہ یا ان کے عرف وعادت کے مطابق ہے،
جس میں قسم کا ارادہ یا قصد نہیں ہوتا۔
محض کلام میں زور وتاکید پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہے۔
(3)
قسم کا ارادہ یا نیت نہ تھی،
تکیہ کلام کے طور پر عَقْرَی،
حَلْقَی "تَرِبَتْ یَدَاہُ " کی طرح کہہ دیا،
اس طرح یہ لغو قسم کی ایک شکل ہے جس پر مؤاخذہ نہیں۔
فوائد ومسائل:
وأَبِيْهِ:
اس کے باپ کی قسم،
آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے باپ کی قسم سے منع کرنے کے باوجود،
باپ کی قسم اٹھائی ہے اس کا جواب یہ ہے (1)
یہ قسم سے منع کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
(2)
یہ عربوں کے کلام ومحاورہ یا ان کے عرف وعادت کے مطابق ہے،
جس میں قسم کا ارادہ یا قصد نہیں ہوتا۔
محض کلام میں زور وتاکید پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہے۔
(3)
قسم کا ارادہ یا نیت نہ تھی،
تکیہ کلام کے طور پر عَقْرَی،
حَلْقَی "تَرِبَتْ یَدَاہُ " کی طرح کہہ دیا،
اس طرح یہ لغو قسم کی ایک شکل ہے جس پر مؤاخذہ نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 101]
Sahih Muslim Hadith 101 in Urdu
مالك بن أبي عامر الأصبحي ← طلحة بن عبيد الله القرشي