🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب القراءة في الصبح:
باب: صبح کی نماز میں قرأت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 458 ترقیم شاملہ: -- 1027
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ سورة ق آية 1، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا ".
زائدہ نے کہا: ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں «ق والقرآن المجيد» پڑھا کرتے تھے، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1027]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں «ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ» پڑھا کرتے تھے، اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہلکی ہوتی تھی، یا اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہلکی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 458
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1027 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1027
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(وَكَانَت صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا)
اس جملہ کے علماء نے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔

سورہ ق پڑھنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہلکی تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تخفیف کو برقرار رکھا اور حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگلی روایت میں سورہ ق کی قراءت کو تخفیف قراردے رہے ہیں۔

فجر کے بعد والی نمازیں،
یعنی ظہر،
عصر،
مغرب اور عشاء یہ سب فجر کی بنسبت ہلکی ہوتی تھیں اور ان میں بہ نسبت فجر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرائت کم کرتے تھے۔

ابتدائی دور میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد کم تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازپڑھنے والے ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ﴾ تھے جو ایمان وعمل میں بلند ترین درجہ پر فائز تھے۔
آپ کی نمازیں عموماً طویل ہوتی تھی بعد کے دور میں جب آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی اور وہ تاجر پیشہ یا زراعت پیشہ لوگ تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے،
جو ایمان وعمل میں پہلوں کے مقابلہ میں کم تر تھے،
اور نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بنا پر،
ان میں مریض،
کمزور اور بوڑھوں کی تعداد بھی بڑھ گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کی بہ نسبت نماز ہلکی پڑھنے لگے۔

آپ پہلی رکعت میں ہمیشہ سورہ ق پڑھتے تھے جیسا کہ زیادہ بن علاقہ نے اپنے چچا سے بیان کیا ہے اور دوسری رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تخفیف کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ پہلی رکعت لمبی پڑھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1027]