یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب في بيان الإيمان بالله وشرائع الدين:
باب: اسلام کے ارکان پوچھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 12 ترقیم شاملہ: -- 103
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : كُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ، أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ.
بہز نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں قرآن مجید میں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ (بلا ضرورت) کسی چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں۔ اس کے بعد (بہز نے) اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 103]
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ہمیں قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بلا خاص ضرورت کے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کر دی گئی۔ بہز نے بھی ہاشم بن القاسم جیسے الفاظ میں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 12
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث السابق برقم (102)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 103 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري