الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب بيان الإيمان الذي يدخل به الجنة وان من تمسك بما امر به دخل الجنة:
باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 13 ترقیم شاملہ: -- 104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا، ثُمّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ لَقَدْ هُدِي "، قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، دَعِ النَّاقَةَ "،
عمر بن عثمان نے کہا: ہمیں موسیٰ بن طلحہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی (دیہاتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار یا نکیل پکڑ لی، پھر کہا: اے اللہ کے رسول! (یا اے محمد!) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی، پھر فرمایا: ”اس کو توفیق ملی (یا ہدایت ملی)۔“ پھر بدوی نے پوچھا: ”تم نے کیا بات کی؟“ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 104]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ایک اعرابی آپ کے سامنے آ کھڑا ہوا اور آپ کی اونٹنی کی مہار یا نکیل پکڑ لی پھر پوچھا اے اللہ کے رسول! یا اے محمد! مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی، پھر فرمایا: ”اس کو توفیق یا ہدایت ملی۔“ اور بدوی سے پوچھا: ”تو نے کیا کہا؟“ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندگی کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز کی پابندی کر، زکوٰۃ ادا کر، صلہ رحمی کر، اونٹنی کو چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 13
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الزكاة، باب: وجوب الزكاة برقم (1396) وفي الادب، باب: فضل صلة الرحم برقم (5982) والنسائي فى ((المجتبي)) (234/1) فى الصلاة، باب: ثواب من اقام الصلاة برقم (467) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (3491)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5983
| تعبد الله لا تشرك به شيئا تقيم الصلاة تؤتي الزكاة تصل الرحم |
صحيح البخاري |
1396
| تعبد الله ولا تشرك به شيئا تقيم الصلاة تؤتي الزكاة تصل الرحم |
صحيح مسلم |
106
| تعبد الله لا تشرك به شيئا تقيم الصلاة تؤتي الزكاة تصل ذا رحمك |
صحيح مسلم |
104
| تعبد الله لا تشرك به شيئا تقيم الصلاة تؤتي الزكاة تصل الرحم |
سنن النسائى الصغرى |
469
| تعبد الله ولا تشرك به شيئا تقيم الصلاة تؤتي الزكاة تصل الرحم |
موسى بن طلحة القرشي ← أبو أيوب الأنصاري