صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السهو في الصلاة والسجود له:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1283
ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ: كَلَّا مَا فَعَلْتُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ لِي: وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ، تَقُولُ ذَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ، تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، "، وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ، " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ لفظ انہی کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے روایت کی، کہا: ہمیں علقمہ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا: ابوشبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! (آپ نے ایسا ہی کیا ہے۔) ابراہیم نے کہا: میں لوگوں کے کنارے (والے حصے) میں تھا اور بچہ تھا، میں نے کہا: ہاں! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ایک آنکھ والے! تو بھی یہی کہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر کہا: عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں، جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی۔ آپ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ تو آپ پلٹے، پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر فرمایا: ”میں تمہاری ہی طرح کا انسان ہوں، میں (بھی) بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو۔“ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1283]
ابراہیم بن سوید رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دیں تو جب اس نے سلام پھیرا لوگوں نے کہا اے ابو شبل آپ نے تو پانچ رکعات پڑھا دی ہیں۔ اس نے کہا ہرگز میں نے یہ کام نہیں کیا لوگوں نے کہا کیوں نہیں اور میں لوگوں کے ایک طرف تھا اور میں نوجوان تھا تو میں نے کہا کیوں نہیں! آپ نے واقعی پانچ رکعات پڑھائی ہیں اس نے مجھے کہا اے اعور تو بھی یہی کہتا ہے تو میں نے کہا، ہاں ابراہیم نے کہا تو وہ پھر گئے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور پھر کہا: عبداللہ نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دیں تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھرے لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہے۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ لوگوں نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھرے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور پھر فرمایا: ”نہیں، بس تمھاری طرح بشر ہوں میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔“ اور ابن نمیر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا، ”تو جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
إبراهيم بن سويد النخعي ← عبد الله بن مسعود