صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السهو في الصلاة والسجود له:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1292
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اقتداء میں) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا (آگے (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1292]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تو سلیم خاندان کا ایک آدمی کھڑا ہوا،“ آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1292 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1292
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اِقْتَصَّ الْحَدِيْثَ وَسَاقَ الْحَدِيْثَ:
حدیث بیان کی،
اس کو پورا کیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا اس نماز میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بذات خود شریک تھے اور ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد 7 ہجری میں ہے اور نماز میں بولنے کی اجازت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی،
اس لیے ثابت ہوا اگر امام نماز میں بھول جائے اور مقتدی اس سلسلہ میں اس کے ساتھ گفتگو کریں تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
گفتگو کے بعد بھول کر رہ جانے والی نماز پڑھی جائے گی اور سجدہ سہو کر لیے جائیں گے،
نئے سرے سے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جبکہ احناف کے نزدیک نماز نئے سرے سے پڑھی جائے گی۔
مفردات الحدیث:
اِقْتَصَّ الْحَدِيْثَ وَسَاقَ الْحَدِيْثَ:
حدیث بیان کی،
اس کو پورا کیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا اس نماز میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بذات خود شریک تھے اور ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد 7 ہجری میں ہے اور نماز میں بولنے کی اجازت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی،
اس لیے ثابت ہوا اگر امام نماز میں بھول جائے اور مقتدی اس سلسلہ میں اس کے ساتھ گفتگو کریں تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
گفتگو کے بعد بھول کر رہ جانے والی نماز پڑھی جائے گی اور سجدہ سہو کر لیے جائیں گے،
نئے سرے سے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جبکہ احناف کے نزدیک نماز نئے سرے سے پڑھی جائے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1292]
Sahih Muslim Hadith 1292 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي