Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب الذكر بعد الصلاة:
باب: نماز کے بعد کیا پڑھنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 583 ترقیم شاملہ: -- 1318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ، حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ أَعْلَمُ، إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ، إِذَا سَمِعْتُهُ.
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ابومعبدنے انہیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو اس کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (رائج) تھا اور (ابومعبد) نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب لوگ سلام پھیرتے تو مجھے اس بات کا علم اسی (بلند آواز کے ساتھ کیے گئے ذکر) سے ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1318]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد لوگوں کے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا، مجھےسلام پھیرنے کا علم اس کے سننے سے ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 583
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥نافذ مولى ابن عباس، أبو معبد
Newنافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← نافذ مولى ابن عباس
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← إسحاق بن منصور الكوسج
ثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← محمد بن بكر البرساني
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
841
رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي
صحيح مسلم
1318
رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي
سنن أبي داود
1003
رفع الصوت للذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان ذلك على عهد رسول الله
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1318 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1318
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر ہوتا تھا۔
اور اس کی ذکر کی توضیح دوسری روایت میں تکبیر سے کی گئی ہے۔
جس سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مقتدی بھی بلند آوازسے اَللہُ اَکْبَر کہتے تھے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے بعد بلند آواز سے:
(لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيْكَ لَهُ،
لَهُ الـمُلْكُ،
وَلَهُ الحَمْدُ،
وهُوَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ،
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ باللَّهِ،
لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ،
وَلا نَعْبُدُ إلاَّ إيَّاهُ،
لَهُ النِّعْمَةُ ولَهُ الفَضْلُ ولَهُ الثَّنَاءُ الحَسَنُ،
لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ مُخلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ ولَوْ كَرِهَ الكَافِرُونَ)
کہتے تھے اس سے بلند آواز سے مروجہ ذکر کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔
اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب والوں کو سن جائے یہ کلمات کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب والے کہتے اس طرح یہ آواز آخری صف تک پہنچ جاتی جہاں بچوں میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما موجود ہوتے تھے۔
لیکن آج کل مسنون الفاظ بلند آواز میں کہنے کی بجائے ایک سُر اور ایک آواز سے اپنی طرف سے کچھ کلمات کہے جاتے ہیں۔
اس ہم آہنگی کا ثبوت اس روایت سے کیسے نکل آیا علامہ سعیدی نے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ مساجد میں اکھٹے ذکر کرنا خلف وسلف کے نزدیک پسندیدہ ہے بشرط یہ کہ ان کے جہر (بلند آواز)
سے کسی کی نیند،
قراءت یا نماز میں خلل پیدا نہ ہو،
کیا اس قول سے ذِکْرٌ بِالْجَہْر کی موجودہ کیفیت پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1318]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1003
نماز کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہی دستور تھا، ابن عباس کہتے ہیں: جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1003]
1003۔ اردو حاشیہ:
سلام کے بعد «الله اكبر» اور تین مرتبہ «استغرالله» اور اسی طرح بعض اور کلمات بالخصوص بلند آواز سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اسے بعض اوقات یا محض تعلیم کے لئے محمول کرنا صحیح نہیں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ آواز کی بلندی اس قدر نہ ہو کہ دوسروں کے لئے تشویش اور الجھن کا باعث بنے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1003]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 841
841. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فرض نماز سے فراغت کے بعد بآواز بلند ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جاری تھا، نیز حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے تو لوگوں کا نماز سے فراغت کا پتہ اس ذکر کی آواز سن کر چلتا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:841]
حدیث حاشیہ:
وقال ابن عباس:
كنت أعلم إذا إنصرفوا بذلك إذا سمعته. ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں ذکر سن کر لوگوں کی نماز سے فراغت کو سمجھ جاتا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 841]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:841
841. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فرض نماز سے فراغت کے بعد بآواز بلند ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جاری تھا، نیز حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے تو لوگوں کا نماز سے فراغت کا پتہ اس ذکر کی آواز سن کر چلتا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:841]
حدیث حاشیہ:
حدیث میں نماز کے بعد ذکر کی فضیلت منقول ہے لیکن اس ذکر سے کیا مراد ہے؟ دور حاضر میں نماز کے بعد بآواز بلند اجتماعی طور پر جو اللہ اللہ کی ضربیں لگائی جاتی ہیں، یہ قطعی طور پر غیر شرعی کام ہے بلکہ اس سے مراد "اللہ أکبر" کہنا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 841]