صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب كراهية تاخير الصلاة عن وقتها المختار وما يفعله الماموم إذا اخرها الإمام:
باب: عمدہ وقت سے نماز کی تاخیر مکروہ ہے اور جب امام ایسا کریں تو لوگ کیا کریں۔
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1470
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ؟ أَوَ قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ".
ابونعامہ نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کا کیا حال ہو گا“ یا فرمایا: ”تمہاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر اگر (تمہاری موجودگی میں) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1470]
حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر لیں گے، تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر نماز اگر کھڑی کر دی جائے تو ان کے ساتھ پڑھ لینا، کیونکہ اس میں نیکی میں اضافہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1470]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري