🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب كراهية تاخير الصلاة عن وقتها المختار وما يفعله الماموم إذا اخرها الإمام:
باب: عمدہ وقت سے نماز کی تاخیر مکروہ ہے اور جب امام ایسا کریں تو لوگ کیا کریں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1471
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ، فَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً "، قَالَ: وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ.
مطر نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے (بھی) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو۔ کہا: عبداللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1471]
حضرت ابو عالیہ براء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن، حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں تو انہوں نے میری ران پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا میں نے اس بارے میں ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھو اور حکمرانوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفلی قرار دو۔ عبداللہ نے بتایا مجھے بتایا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1471]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥عبد الله بن الصامت الغفاري، أبو النضر
Newعبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥زياد بن فيروز البراء، أبو العالية
Newزياد بن فيروز البراء ← عبد الله بن الصامت الغفاري
ثقة
👤←👥مطر بن طهمان الوراق، أبو رجاء
Newمطر بن طهمان الوراق ← زياد بن فيروز البراء
وحديثه عن عطاء ضعيف، صدوق كثير الخطأ
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← مطر بن طهمان الوراق
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مالك بن عبد الواحد المسمعي، أبو غسان
Newمالك بن عبد الواحد المسمعي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1471 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1471
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان تمام روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز عصر جلدی پڑھنی چاہیے اگر امام وقت تاخیر کرے تو نماز اپنے وقت پر پڑھ لینی چاہیے اور جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنی پڑے تو اس کو دوبارہ پڑھ لینا چاہیے لیکن اس کی خاطر وقت پر نماز پڑھنے کو ترک نہیں کرنا چاہیے یا دوبارہ باجماعت پڑھنے سے گریز کے لیے پہلی نماز کو بہانہ نہیں بنانا چاہیے نہ اس بات کو بہانہ بنانا چاہیے کہ عصر کے بعد نفل نہیں ہوتے کیونکہ سب اور ضرورت کی بنا پر عصر کے بعد نفل نماز پڑھنا جائز ہے جیسا کہ ان روایات سے ثابت ہو رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1471]