🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب الرخصة في التخلف عن الجماعة بعذر:
باب: عذر کے سبب سے جماعت کا معاف ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 1497
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍكِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ، أَوِ الدُّخَيْشِنِ؟ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا قُلْتَ؟ قَالَ: فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ، نَرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ.
معمر نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا (پھر یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ یہ کہا: تو ایک آدمی نے کہا: مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے؟ اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: محمود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو، جن میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، سنائی تو انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو۔ اس پر میں نے (دل میں) قسم کھائی کہ اگر میں عتبان رضی اللہ عنہ کے ہاں دوبارہ گیا تو ان سے (اس کے بارے میں ضرور) پوچھوں گا۔ تو میں دوبارہ ان کے پاس آیا، میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی لیکن وہ (اب بھی) اپنی قوم کے امام تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بالکل اسی طرح (ساری) حدیث سنائی جس طرح پہلے سنائی تھی۔ زہری نے کہا: اس واقعے کے بعد بہت سے فرائض اور دیگر امور (احکام) نازل ہوئے اور ہماری نظر میں معاملہ انہی پر تمام ہوا، لہذا جو انسان چاہتا ہے کہ (عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے) دھوکا نہ کھائے، وہ دھوکا کھانے سے بچے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1497]
ایک دوسری سند سے امام صاحب مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ایک آدمی نے کہا، مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے؟ اور یہ اضافہ ہے، محمود کہتے ہیں میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو جن میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے سنائی۔ تو انہوں نے کہا، میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو۔ تو میں نے دل سے قسم اٹھائی کہ اگر میں عتبان کو دوبارہ ملوں گا تو ان سے یہ حدیث پوچھوں گا، میں ان کے پاس دوبارہ آیا تو وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی لیکن وہ اپنی قوم کے امام تھےتو میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے پہلے کی طرح سارا واقعہ سنایا۔ زہری کہتے ہیں اس واقعہ کے بعد بہت سے احکام نازل ہوئے اور بہت سی چیزیں فرض ہوئیں، ہمارے خیال میں ان کے بعد دین مکمل ہو گیا، لہٰذا جو انسان عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے دھوکا نہ کھانا چاہتا ہو وہ ہماری وضاحت سے دھوکا کھانے سے بچ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1497]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عتبان بن مالك الأنصاريصحابي
👤←👥محمود بن الربيع الخزرجي، أبو محمد، أبو نعيم
Newمحمود بن الربيع الخزرجي ← عتبان بن مالك الأنصاري
صحابي صغير
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← محمود بن الربيع الخزرجي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد بن حميد الكشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1497 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1497
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام زہری کا مقصد یہ ہے کہ عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا تعلق ابتدائے اسلام سے ہے جبکہ ابھی دین کے بہت سے فرائض اور احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔
اس لیے کوئی انسان اس دھوکا میں مبتلا نہ ہو کہ محض کلمہ کے اقرارسے انسان آگ سے بچ جائے گا اور حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہی مفہوم لے کر (کہ محض کلمہ نجات کا باعث ہے)
اس کا فرمان نبوی ہونے سے انکار کیا لیکن ہمارے بیان کردہ مفہوم کے مطابق اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اس کی پوری وضاحت کتاب الایمان میں گزر چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1497]