صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
50. باب فضل كثرة الخطا إلى المساجد:
باب: مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 665 ترقیم شاملہ: -- 1520
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ، أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ "، فَقَالُوا: مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا.
کہمس نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، کہا: اور (مسجد کے قریب) جگہیں (بھی) خالی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: (اس کے بعد) ہمیں یہ بات اچھی (بھی) نہ لگتی کہ ہم منتقل ہو چکے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1520]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ کے لوگوں نے مسجد کے قریب آ جانے کا ارادہ کیا، کیونکہ مسجد قریب جگہیں خالی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو سلمہ! ”اپنے گھروں میں رہو، تمہارے نقش قدم لکھے جاتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا، ہمیں پسند نہیں ہے کہ ہم منتقل ہو چکے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 665
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1520 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1520
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
بقاع:
بقعة کی جمع ہے،
قطعہ زمین،
زمین کا ٹکڑا۔
(2)
آثَار:
اثر کی جمع ہے،
پاؤں کا نشان۔
فوائد ومسائل:
مسجد کے قریب صرف اس غرض کے تحت جگہ لینا کہ زیادہ دور سے چل کر نہ آنا پڑے۔
درست نہیں ہے کیونکہ انسان جس قدر مسجد سے دور ہو گا اس قدر اس کو اہتمام زیادہ کرنا پڑے گا نماز کے لیے زیادہ فکرمندی زیادہ مشقت اور دور کی مسافت زیادہ وقت کی طالب ہو گی تو یہ ہر چیز اجرو ثواب اور فضیلت کا باعث ہو گی اگر اس کا سبب کوئی اور چیز ہو مثلاً مسجد کے قریب ہونے کی وجہ سے بچے مسجد میں پڑھ سکیں گے بوڑھے اور مریض کے لیے بھی جماعت کے لیے مسجد میں جانا آسان ہو گا ہمارے لیے تکبیر تحریمہ میں شرکت آسان ہو گی تو اس نیت کے تحت مسجد کے قریب آنا درست ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
بقاع:
بقعة کی جمع ہے،
قطعہ زمین،
زمین کا ٹکڑا۔
(2)
آثَار:
اثر کی جمع ہے،
پاؤں کا نشان۔
فوائد ومسائل:
مسجد کے قریب صرف اس غرض کے تحت جگہ لینا کہ زیادہ دور سے چل کر نہ آنا پڑے۔
درست نہیں ہے کیونکہ انسان جس قدر مسجد سے دور ہو گا اس قدر اس کو اہتمام زیادہ کرنا پڑے گا نماز کے لیے زیادہ فکرمندی زیادہ مشقت اور دور کی مسافت زیادہ وقت کی طالب ہو گی تو یہ ہر چیز اجرو ثواب اور فضیلت کا باعث ہو گی اگر اس کا سبب کوئی اور چیز ہو مثلاً مسجد کے قریب ہونے کی وجہ سے بچے مسجد میں پڑھ سکیں گے بوڑھے اور مریض کے لیے بھی جماعت کے لیے مسجد میں جانا آسان ہو گا ہمارے لیے تکبیر تحریمہ میں شرکت آسان ہو گی تو اس نیت کے تحت مسجد کے قریب آنا درست ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1520]
المنذر بن مالك العوفي ← جابر بن عبد الله الأنصاري