🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ:
باب: مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 662 ترقیم شاملہ: -- 1513
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ، أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى، فَأَبْعَدُهُمْ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا، ثُمَّ يَنَامُ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ.
عبداللہ بن براد اشعری اور ابوکریب دونوں نے کہا: ہم سے ابواسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں سب سے زیادہ ثواب اس کا ہے جو اس کے لیے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے۔ پھر (اس کے بعد) جو ان میں سے سب سے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے۔ اور جو آدمی نماز کا انتظار کرتا ہے تاکہ اسے امام کے ساتھ ادا کرے، اجر میں اس سے بہت بڑھ کر ہے جو نماز پڑھتا ہے، پھر سو جاتا ہے۔ ابوکریب کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ وہ اسے امام کے ساتھ جماعت میں ادا کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1513]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کا سب لوگوں سے زیادہ ثواب اس نمازی کو ملتا ہے جو اس کے لیے سب سے دور چل کر آتا ہے، اس کے بعد جو اس کے بعد دور سے چل کر آتا ہے اور جو آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے نماز کا انتظار کرتا ہے، اس کو اس سے زیادہ ثواب ملتا ہے، جو نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔ ابو کریب کی روایت میں مَعَ الإِمَام کے بعد فِي جَمَاعَة کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1513]
ترقیم فوادعبدالباقی: 662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 663 ترقیم شاملہ: -- 1514
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ، لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَوْ قُلْتُ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ، وَفِي الرَّمْضَاءِ؟ قَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي، إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ ".
عبثر نے ہمیں خبر دی، انہوں نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک آدمی تھا، میرے علم میں کوئی اور آدمی اس کی نسبت مسجد سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہتا تھا اور اس کی کوئی نماز نہیں چوکتی تھی، اس سے کہا گیا، یا میں نے (اس سے) کہا: اگر آپ گدھا خرید لیں کہ (رات کی) تاریکی اور (دوپہر کی) گرمی میں آپ اس پر سوار ہو جایا کریں۔ اس نے جواب دیا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہو، میں چاہتا ہوں میرا مسجد تک چل کر جانا اور جب میں گھر والوں کی طرف لوٹوں تو میرا لوٹنا میرے لیے لکھا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ تمہارے لیے اکٹھا کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1514]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی تھا، میرے علم میں مسجد سے اس سے زیادہ کسی کا فاصلہ نہ تھا۔ اور اس کی کوئی نماز (باجماعت) قضاء نہیں ہوتی تھی تو اسے کسی نے کہا یا میں نے کہا: اے کاش آپ تاریکی اور گرمی میں آسانی کے لیے گدھا خرید لیں تو اس نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہو، میں چاہتا ہوں میرا مسجد تک چل کر جانا اور جب میں گھر لوٹوں تو میرا لوٹنا لکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے جمع کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1514]
ترقیم فوادعبدالباقی: 663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 663 ترقیم شاملہ: -- 1515
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ. ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ.
عتمر بن سلیمان اور جریر دونوں نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1515]
امام صاحب ایک دوسری سند سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1515]
ترقیم فوادعبدالباقی: 663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 663 ترقیم شاملہ: -- 1516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْنَا لَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ، قَالَ: أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا، حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ: أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الأَجْرَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ ".
عباد بن عباد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں عاصم نے ابوعثمان سے حدیث سنائی، کہا: انصار میں ایک آدمی تھا، اس کا گھر مدینہ میں سب سے دور (واقع) تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھنے سے چوکتی نہیں تھی، ہم نے اس کے لیے ہمدردی محسوس کی تو میں نے اسے کہا: جناب! اگر آپ ایک گدھا خرید لیں جو آپ کو گرمی اور زمین کے (زہریلے) کیڑوں سے بچائے (تو کتنا اچھا ہو!) اس نے کہا: واللہ! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر (خیمے کی طرح) کنابوں کے ذریعے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے بندھا ہوا ہو۔ مجھے اس کی یہ بات بہت گراں گزری حتی کہ میں اسی کیفیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی خبر دی۔ آپ نے اسے بلوایا تو اس نے آپ کو بھی وہی جواب دیا اور آپ کو بتایا کہ وہ آنے جانے پر اجر کی امید رکھتا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یقیناً وہی اجر ملے گا جسے تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1516]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک انصاری آدمی تھا، اس کا گھر مدینہ میں سب سے زیادہ دور گھر تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھنے سے نہیں رہتی تھی، ہم نے اس کے لیے درد محسوس کیا (اس کی تکلیف کا ہمیں احساس ہوا) تو میں نے اسے کہا، اے فلاں! اے کاش، آپ ایک گدھا خرید لیں، جو آپ کو گرمی اور زمین کے زہریلے کیڑوں سے بچائے، اس نے کہا، ہاں، اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرا گھر طنابوں (رسیوں) کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے بندھا ہوا ہوتا تو مجھے اس کی یہ بات بہت ناگوار محسوس ہوئی حتیٰ کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس قسم کا جواب دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، میں اپنے آنے جانے پر ثواب کی امید رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے وہ اجر ملے گا، جس کی تم نے نیت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1516]
ترقیم فوادعبدالباقی: 663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 663 ترقیم شاملہ: -- 1517
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح، وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابن عینیہ اور وکیع نے اپنے والد کے حوالے سے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1517]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی عاصم کی مذکورہ سند سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1517]
ترقیم فوادعبدالباقی: 663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 664 ترقیم شاملہ: -- 1518
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا، فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً ".
ابوزبیر نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: ہمارے گھر مسجد سے دور واقع تھے، ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو فروخت کر کے مسجد کے قریب آجائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روک دیا اور فرمایا: تمہارے لیے ہر قدم کے بدلے میں ایک درجہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1518]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور واقع تھے تو ہم نے چاہا، ہم اپنے گھروں کو فروخت کر کے مسجد کے قریب گھر خرید لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا اور فرمایا: تمہیں ہر قدم کے بدلے میں ایک درجہ ملے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1518]
ترقیم فوادعبدالباقی: 664
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 665 ترقیم شاملہ: -- 1519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ، أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا بَنِي سَلِمَةَ، " دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ".
جریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) مسجد کے اردگرد کی جگہیں خالی ہوئیں تو (ان کے قبیلے) بنو سلمہ کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم یہی چاہتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، (پھر فرمایا:) اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1519]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ کے لوگوں نے چاہا مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا پتہ چل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: مجھے اطلاع ملی ہے تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا، جی ہاں! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے اس کا ارادہ کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے نقش قدم لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1519]
ترقیم فوادعبدالباقی: 665
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 665 ترقیم شاملہ: -- 1520
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ، أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ "، فَقَالُوا: مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا.
کہمس نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، کہا: اور (مسجد کے قریب) جگہیں (بھی) خالی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: (اس کے بعد) ہمیں یہ بات اچھی (بھی) نہ لگتی کہ ہم منتقل ہو چکے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1520]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ کے لوگوں نے مسجد کے قریب آ جانے کا ارادہ کیا، کیونکہ مسجد قریب جگہیں خالی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے نقش قدم لکھے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا، ہمیں پسند نہیں ہے کہ ہم منتقل ہو چکے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 665
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں