پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب من احق بالإمامة:
باب: امامت کا مستحق کون ہے؟
ترقیم عبدالباقی: 672 ترقیم شاملہ: -- 1529
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ، أَقْرَؤُهُمْ ".
ابوعوانہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب (نماز پڑھنے والے) تین ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں سے زیادہ (قرآن) پڑھا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1529]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین نمازی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں امامت کا حقدار وہ ہے جو قرآن مجید کی خوب تلاوت کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
783
| إذا كانوا ثلاثة فليؤمهم أحدهم أحقهم بالإمامة أقرؤهم |
سنن النسائى الصغرى |
841
| إذا كانوا ثلاثة فليؤمهم أحدهم أحقهم بالإمامة أقرؤهم |
صحيح مسلم |
1529
| إذا كانوا ثلاثة فليؤمهم أحدهم أحقهم بالإمامة أقرؤهم |
سنن أبي داود |
2608
| إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1529 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1529
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امامت کا حقدار وہ انسان ہے جسے قرآن مجید کے ساتھ خاص شغف و تعلق ہو اور وہ اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتا ہو لیکن اس میں اختلاف ہے کہ کیا قرآءت سے مراد محض حفظ قرآن اور اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت ہے یا اس سےمراد حفظ قرآن کے ساتھ اس کا علم و فہم بھی ہے امام احمد کے نزدیک محض قاری مقدم ہے اور باقی آئمہ کے نزدیک قرآن کا علم و فہم رکھنے والا مقدم ہے اگر قاری عالم بھی ہو تو اس کے مقدم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امامت کا حقدار وہ انسان ہے جسے قرآن مجید کے ساتھ خاص شغف و تعلق ہو اور وہ اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتا ہو لیکن اس میں اختلاف ہے کہ کیا قرآءت سے مراد محض حفظ قرآن اور اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت ہے یا اس سےمراد حفظ قرآن کے ساتھ اس کا علم و فہم بھی ہے امام احمد کے نزدیک محض قاری مقدم ہے اور باقی آئمہ کے نزدیک قرآن کا علم و فہم رکھنے والا مقدم ہے اگر قاری عالم بھی ہو تو اس کے مقدم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1529]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 841
جب تین آدمی ہوں تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 841]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 841]
841 ۔ اردو حاشیہ: تفصیل کے لیے دیکھیے سنن نسائی حدیث: 781، 800 اور ان کے فوائد و مسائل۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 841]
Sahih Muslim Hadith 1529 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري