صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب بيان عدد شعب الإيمان وافضلها وادناها وفضيلة الحياء وكونه من الإيمان
باب: ایمان کی شاخوں کی تعداد، اور افضل اور ادنیٰ ایمان کا بیان، اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 37 ترقیم شاملہ: -- 158
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ ، يَقُولُ: عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
نضر (بن شمیل) نے کہا: ہمیں ابونعامہ عدوی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حجیر بن ریبع عدوی سے سنا، وہ کہتے تھے: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (جس طرح) حماد بن زید کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 158]
ہمیں اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ نے نضر رحمہ اللہ سے ابو نعامہ عدوی رحمہ اللہ کی روایت سنائی، اس نے بتایا کہ میں نے حمیر میں ربیع عدوی رحمہ اللہ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سنی یہ روایت بھی حماد بن زید رحمہ اللہ کی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 158]
ترقیم فوادعبدالباقی: 37
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10792)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 158 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 158
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
ضَعْفٌ:
پست حوصلگی،
بودا پن،
یا ڈرپوک ہونا،
ظاہر ہے یہ حیاء نہیں،
بلکہ جُبُنْ (بزدلی)
یا عجز و بے بسی ہے،
اس لیے اس کو حیا کا نام دینا درست نہیں ہے۔
حیاء صرف اس صفت یا ملکہ کو کہتے ہیں جو انسان کو قبائح اور معاصی سے روکتا ہے۔
(2)
احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ:
یہ "اسروا النجوى" اور "يتعاقبون فيكم الملائكة" کے اصول پر مبنی ہے،
جس میں ضمیر فاعل ہوتی ہے اور اسم ظاہر بدل بنتا ہے۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
ضَعْفٌ:
پست حوصلگی،
بودا پن،
یا ڈرپوک ہونا،
ظاہر ہے یہ حیاء نہیں،
بلکہ جُبُنْ (بزدلی)
یا عجز و بے بسی ہے،
اس لیے اس کو حیا کا نام دینا درست نہیں ہے۔
حیاء صرف اس صفت یا ملکہ کو کہتے ہیں جو انسان کو قبائح اور معاصی سے روکتا ہے۔
(2)
احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ:
یہ "اسروا النجوى" اور "يتعاقبون فيكم الملائكة" کے اصول پر مبنی ہے،
جس میں ضمیر فاعل ہوتی ہے اور اسم ظاہر بدل بنتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 158]
حجير بن الربيع العدوي ← عمران بن حصين الأزدي