Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب قصر الصلاة بمنى:
باب: منیٰ میں نماز قصر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 695 ترقیم شاملہ: -- 1596
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ "، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ ".
عبدالواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبدالرحمان بن یزید سے سنا، کہہ رہے تھے: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعتیں پڑھائیں، یہ بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو انہوں نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، کاش! میرے نصیب میں چار رکعات کے بدلے شرف قبولیت حاصل کرنے والی دو رکعتیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1596]
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں تو اس کا تذکرہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کیا گیا تو انہوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ پھر بتایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی اور میں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی اور میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی۔ کاش چار رکعات میں میرا حصہ اگر شرف قبولیت حاصل کرنے والی رکعتیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1596]
ترقیم فوادعبدالباقی: 695
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم النخعي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1084
صليت مع رسول الله بمنى ركعتين وصليت مع أبي بكر الصديق بمنى ركعتين وصليت مع عمر بن الخطاب بمنى ركعتين
صحيح البخاري
1657
صليت مع النبي ركعتين ومع أبي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين ثم تفرقت بكم الطرق فيا ليت حظي من أربع ركعتان متقبلتان
صحيح مسلم
1596
صليت مع رسول الله بمنى ركعتين وصليت مع أبي بكر الصديق بمنى ركعتين وصليت مع عمر بن الخطاب بمنى ركعتين فليت حظي من أربع ركعات ركعتان متقبلتان
سنن النسائى الصغرى
1440
صليت مع رسول الله في السفر ركعتين ومع أبي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين ما
سنن النسائى الصغرى
1449
صليت بمنى مع رسول الله ركعتين
سنن النسائى الصغرى
1450
صليت مع رسول الله ركعتين
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1596 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1596
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما منیٰ میں نماز قصر پڑھتے تھے۔
اس لیے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہی چاہتے تھے کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی منیٰ میں دورکعت نماز ہی پڑھیں۔
لیکن اس رائے اور فکر کے باجود وہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخالفت کر کے انتشار اور افتراق پیدا کرنے سے پرہیز کرتے تھے اور ان کی اقتدا میں پوری نماز پڑھتے تھے اور اکیلے نماز قصر پڑھتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے انتشار اور افتراق ایک ناپسندیدہ حرکت ہے۔
اس سے بچنے کی خاطر ایک ایسی بات قبول کی جا سکتی ہے جو مرجوح ہو نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل کی موجودگی میں کسی بڑے سے بڑے انسان کا قول وفعل بھی حجت نہیں ہے اگرچہ اس پر بے جا تنقید وتبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1596]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1084
1084. حضرت عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں۔ جب اس بات کا تذکرہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کیا گیا تو انہوں نے إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ بھی منیٰ میں دو دو رکعتیں پڑھیں، کاش کہ چار رکعتوں کے بجائے میرے حصے میں وہی دو رکعتیں آئیں جو اللہ کے ہاں مقبول ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1084]
حدیث حاشیہ:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمر ؓ کی منیٰ میں نماز کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ آپ حضرات حج کے ارادہ سے جاتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے منیٰ میں بھی قیام کیا ہوتا۔
یہاں سفر کی حالت میں ہوتے تھے اس لیے قصر کرتے تھے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر ؓ کا ہمیشہ یہی معمول تھا کہ منیٰ میں قصر کرتے تھے۔
عثمان ؓ نے بھی ابتدائی دور خلافت میں قصر کیا، لیکن بعد میں جب پوری چار رکعتیں آپ نے پڑھیں تو ابن مسعود ؓ نے اس پر سخت ناگواری کا اظہار فرمایا۔
دوسری روایتوں میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے بھی پوری چار رکعت پڑھنے کا عذر بیان کیا تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1084]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1657
1657. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دو رکعتیں پڑھیں، حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ دو ہی رکعتیں ادا کیں، پھر حضرت عمرفاروق ؓ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر تمہارے طریقے مختلف ہوگئے۔ کاش!چار رکعات کے بجائے مجھے ایسی دو رکعتیں ہی نصیب ہوجائیں جنھیں اللہ کے ہاں شرف پذیرائی حاصل ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1657]
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے بطور اظہار ناراضگی فرمایا کہ کاش میری دو رکعات ہی اللہ کے ہاں قبول ہو جائیں۔
ظاہر ہے کہ اس قسم کے فروعی اور اجتہادی اختلاف کی بنا پر کسی کو بھی مورد طعن نہیں بنایا جاسکتا۔
حضرت عثمان ؓ کے سامنے کچھ مصالح ہوں گے جن کی بنا پر انہوں نے ایسا کیا ورنہ شروع خلافت میں وہ بھی قصر ہی کیا کرتے تھے۔
قصر کرنا بہرحال اولی ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، آپ کی سنت ہر حال میں مقدم ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ارشاد کے:
فَيَا لَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ کے متعلق حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
والذي يظهر أنه قال ذلك على سبيل التفويض إلى الله لعدم اطلاعه على الغيب وهل يقبل الله صلاته أم لا فتمنى أن يقبل منه من الأربع التي يصليها ركعتان ولو لم يقبل الزائد وهو يشعر بأن المسافر عنده مخير بين القصر والإتمام والركعتان لا بد منهما ومع ذلك فكان يخاف أن لا يقبل منه شيء فحاصله أنه قال إنما أتم متابعة لعثمان وليت الله قبل مني ركعتين من الأربع۔
یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جو فرمایا یہ آپ نے اپنا عمل اللہ کو سونپا اس لیے کہ آپ کو غیب پر اطلاع نہ تھی کہ اللہ پاک آپ کی نماز قبول کرتا ہے یا نہیں، اس لیے تمنا فرمائی کہ کاش اللہ میری چار کعات میں سے دو رکعات کو قبول فرمالے اگرچہ وہ زائد رکعات کوقبول نہ فرمائے اور یہ اس لیے بھی کہ مسافر کو نماز پوری کرنے اورقصر کرنے کا آپ کے نزدیک اختیار تھا۔
اور دورکعات کے بغیر تو گزارہ نہیں ہے۔
اس کے باوجود وہ ڈرتے تھے کہ شاید کچھ بھی قبول نہ ہو، پس حاصل بحث یہ ہے کہ آپ نے حضرت عثمان ؓ کی متابعت میں نماز کو پورا فرمایا اور یہ کہا کہ کاش اللہ پاک ان چار رکعات میں سے میری دو رکعات ہی کو قبول فرما لے۔
اللہ والوں کی یہی شان ہے کہ وہ کچھ بھی نیکی کریں، کتنے ہی تقوی شعار ہوں مگر پھر بھی ان کو یہی خطرہ لاحق رہتا ہے کہ ان کی نیکیاں دربار الٰہی میں قبول ہوتی ہیں یا رد ہو جاتی ہیں۔
ایسے اللہ والے آج کل عنقاءہیں جب کہ اکثریت ریاکاروں بظاہر تقویٰ شعاروں و بباطن دنیا داروں کی رہ گئی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1657]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1084
1084. حضرت عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں۔ جب اس بات کا تذکرہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کیا گیا تو انہوں نے إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ بھی منیٰ میں دو دو رکعتیں پڑھیں، کاش کہ چار رکعتوں کے بجائے میرے حصے میں وہی دو رکعتیں آئیں جو اللہ کے ہاں مقبول ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1084]
حدیث حاشیہ:
(1)
روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے نزدیک دوران سفر میں قصر کرنا واجب ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو صرف إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنے پر اکتفا نہ کرتے۔
دیگر روایات کے پیش نظر جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے ان کے ہمراہ چار رکعات کیوں پڑھی ہیں؟ تو جواب دیا کہ ایسے موقع پر اختلاف کرنا شروفساد کا پیش خیمہ ہے۔
اگر دوران سفر میں نماز کو پورا پڑھنا بدعت ہوتا تو بدعت سے اختلاف کرنا تو باعث برکت ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے نزدیک دوران سفر قصر کرنا فرض نہیں، البتہ جذبۂ اتباع سنت کے پیش نظر انہوں نے اپنی سخت ناگواری کا اظہار ضرور فرمایا۔
(فتح الباري: 729/2) (2)
حضرت عثمان ؓ نے حج کے موقع پر منیٰ میں قیام کے دوران چار رکعت پڑھائی تھیں۔
محدثین کرام نے اس کی متعدد توجیہات بیان کی ہیں جن کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
اس سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس رخصت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو قبول کیا جائے۔
اس بنا پر ہمارے نزدیک یہی افضل ہے کہ دوران سفر میں نماز قصر پڑھی جائے، لیکن اگر کوئی رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نماز پوری ادا کرتا ہے تو یہ جائز ہے، ایسا کرنا بدعت کے زمرے میں نہیں آتا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1084]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1657
1657. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دو رکعتیں پڑھیں، حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ دو ہی رکعتیں ادا کیں، پھر حضرت عمرفاروق ؓ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر تمہارے طریقے مختلف ہوگئے۔ کاش!چار رکعات کے بجائے مجھے ایسی دو رکعتیں ہی نصیب ہوجائیں جنھیں اللہ کے ہاں شرف پذیرائی حاصل ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1657]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں نماز پوری پڑھنا شروع کی تو کسی نے حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے إنا لله وإنا إليه راجعون پڑھا اور مذکورہ وضاحت فرمائی۔
(صحیح البخاري، التقصیر، حدیث: 1084)
ایک روایت میں ہے کہ سائل نے ان سے کہا:
آپ ان کی اقتدا میں چار کیوں ادا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ فتنے اور اختلاف سے بچنے کی خاطر ایسا کرتا ہوں، مبادا میری وجہ سے کوئی فساد پیدا ہو جائے۔
اس کے باوجود آپ ڈرتے تھے کہ خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے شاید یہ عمل کبھی اللہ کے ہاں قبول نہ ہو۔
کاش! ان چار رکعات میں سے میری دو ہی قبول ہو جائیں۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
آپ نے اپنا عمل اللہ کے حوالے فرمایا کیونکہ آپ کو غیب پر اطلاع نہ تھی، اس لیے تمنا فرمائی کہ کاش! اللہ تعالیٰ میری ان چار رکعات میں سے دو ہی کو قبول کرے، زائد دو رکعات قبول نہ کرے۔
(فتح الباري: 643/3) (2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فروعی اختلاف کی وجہ سے امام کی متابعت اور اقتدا ترک کر دینا دانشمندی نہیں، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کہا گیا کہ آپ حضرت عثمان ؓ کی حرف گیری کرتے ہیں اور ان کے پیچھے چار رکعات پڑھتے ہیں؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ میرے نزدیک ایسے مسائل میں اختلاف کی وجہ سے پیچھے رہنا شر کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1960)
امام ابوداود ؒ نے حضرت عثمان ؓ کے متعلق چند وجوہات ذکر کی ہیں جن کی بنا پر وہ منیٰ میں حج کے دوران نماز پوری پڑھتے تھے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1964،1963،1961)
ہم ان وجوہات کی تفصیل اور ان کے جوابات کتاب تقصیر الصلاة میں بیان کر آئے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1657]