Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب استحباب ركعتي سنة الفجر والحث عليهما وتخفيفهما والمحافظة عليهما وبيان ما يستحب ان يقرا فيهما:
باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان اور ان کو ہلکا پڑھنا اور ہمیشہ پڑھنا اور ان میں جو قرأت زیادہ مستحب ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1687
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ، إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ".
حفص نے ابن جریج سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی نفل (کی ادائیگی) کے لیے اس قدر جلدی کرتے نہیں دیکھا جتنی جلدی آپ نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1687]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نفل کے لیے بھی اس قدر سرعت و جلدی کرتے نہیں دیکھا، جس قدر سرعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1687]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم
Newعبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبيد بن عمير الجندعي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← حفص بن غياث النخعي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1169
لم يكن النبي على شيء من النوافل أشد منه تعاهدا على ركعتي الفجر
صحيح مسلم
1687
ما رأيت رسول الله في شيء من النوافل أسرع منه إلى الركعتين قبل الفجر
صحيح مسلم
1686
لم يكن على شيء من النوافل أشد معاهدة منه على ركعتين قبل الصبح
سنن أبي داود
1254
لم يكن على شيء من النوافل أشد معاهدة منه على الركعتين قبل الصبح
بلوغ المرام
283
ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1687 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1687
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صبح سنتوں کے لیے جلدی کرنا ان کے اہتمام اور محافظت سے کنایہ ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا التزام فرماتے تھے کہ ان کو صبح کی نماز سے پہلے ہی پڑھا جائے۔
نماز فجر کے بعد ان کی قضائی کی ضرورت نہ پیش آئے۔
لیکن آج ہم ان سنتوں کا اس قدر اہتمام نہیں کرتے اس لیے بہت سے لوگ نماز فجر کے بعد ان کو پڑھتے ہیں جو ان کا اصل وقت نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1687]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1254
فجر کی دو رکعت سنت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1254]
1254۔ اردو حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں سفر میں بھی ترک نہیں فرماتے تھے، اس لیے بعض محدثین مثلاًً حسن بصری رحمہ اللہ انہیں واجب کہتے ہیں، ایسے ہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی۔ اس سے واضح ہوا کہ دوسری سنتوں کے مقابلے میں فجر کی ان دو سنتوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1254]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 283
نفل نماز کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے سب سے زیادہ اہتمام فجر کی دو سنتوں کا رکھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ہے کہ نماز فجر کی دو (رکعتیں) (سنتیں) «دنيا وما فيها» سے بہتر ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 283»
تخریج:
«أخرجه البخاري، التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر، حديث:1169، ومسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر، حديث:724، وحديث "ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها" أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، حديث:725.»
تشریح:
1. اس میں شک کی ذرہ برابر گنجائش نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنن رواتب میں سے فجر کی دو سنتوں کا جتنا التزام فرمایا اتنا دوسری سنتوں کا اہتمام نہیں کیا حتی کہ سفر و حضر میں بھی انھیں کبھی نہیں چھوڑا۔
ان دو سنتوں کی اتنی تاکید کے پیش نظر احناف نے تو جماعت کھڑی ہو جانے کے باوجود ان کو فرضوں سے پہلے پڑھنا لازمی قرار دے رکھا ہے‘ حالانکہ یہ صراحتاً حدیث کے خلاف ہے کیونکہ فرض جماعت کے ہوتے ہوئے دوسری کوئی نماز پڑھنا درست نہیں‘ چنانچہ آپ کا فرمان ہے: «إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلَا صَلَاۃَ إِلاَّ الْمَکْتُوبَۃَ» جب (نماز کے لیے) اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔
(صحیح مسلم‘ صلاۃ المسافرین‘ باب کراھۃ الشروع في نافلۃ…‘ حدیث:۷۱۰) 2.بیہقی کی وہ روایت کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے الا یہ کہ صبح کی سنتیں ہوں‘ بالکل بے اصل اور ضعیف ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (عون المعبود)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 283]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1169
1169. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی کا اس قدر اہتمام نہیں کرتے تھے جتنا فجر کی دو سنتوں کا اہتمام کرتے تھے، یعنی دوسرے نوافل کی نسبت فجر کی سنتوں کو زیادہ پابندی سے ادا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1169]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فجر کی سنتوں کو بھی لفظ نفل ہی سے ذکر فرمایا۔
پس باب اور حدیث میں مطابقت ہو گئی۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سنتوں پر مداومت فرمائی ہے۔
لہٰذا سفر وحضر کہیں بھی ان کا ترک کرنا اچھا نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1169]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1169
1169. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی کا اس قدر اہتمام نہیں کرتے تھے جتنا فجر کی دو سنتوں کا اہتمام کرتے تھے، یعنی دوسرے نوافل کی نسبت فجر کی سنتوں کو زیادہ پابندی سے ادا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1169]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں فجر کی دو سنتوں کو نوافل قرار دیا گیا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بہت حفاظت فرماتے تھے حتی کہ آپ نے سفر میں بھی انہیں ترک نہیں کیا۔
بعض حضرات نے انہیں تطوع کا نام دیا ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن شقیق نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تطوع (نفلی نماز)
کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب میں فجر کی دو سنتوں کو بھی بیان فرمایا، نیز ابن جریج نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ فجر کی دو سنت واجب ہیں یا ان کا تعلق نماز تطوع سے ہے؟ تو انہوں نے مذکورہ حدیث بیان کی، یعنی تطوع ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہمیشگی فرمائی اور ان کی حفاظت کی ہے۔
(فتح الباري: 58/3) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے متعلق شدید پابندی کے پیش نظر امام حسن بصری ؒ نے انہیں واجب کہا ہے، جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں اس کی صراحت ہے۔
امام ابو حنیفہ ؒ سے بھی ان کے واجب ہونے کی ایک روایت ملتی ہے۔
حسن بن زیاد نے ان سے نقل کیا ہے کہ اگر عذر کے بغیر انہیں کوئی بیٹھ کر ادا کرتا ہے تو جائز نہیں۔
(فتح الباري: 56/3)
بہرحال فجر کی دو سنت ادا کرنے کے متعلق احادیث میں بہت تاکید ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1169]