Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلى الله عليه وسلم في الليل وان الوتر ركعة وان الركعة صلاة صحيحة:
باب: نماز شب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل میں رکعتوں کی تعداد، وتر کے ایک ہونے کا بیان اور اس بات کا بیان کہ ایک رکعت صحیح نماز ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 741 ترقیم شاملہ: -- 1730
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي؟ فَقَالَتْ: " كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ، قَامَ فَصَلَّى ".
مسروق نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ کو ہمیشہ کیا جانے والا عمل پسند تھا۔ میں نے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ مرغ کی آواز سنتے تو کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1730]
مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمل پر دوام و ہمیشگی کو پسند فرماتے تھے، میں نے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ تو کہا، جب مرغ اذان دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1730]
ترقیم فوادعبدالباقی: 741
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥سليم بن أسود المحاربي، أبو الشعثاء
Newسليم بن أسود المحاربي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي
Newأشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← سليم بن أسود المحاربي
ثقة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي
ثقة متقن
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6461
أي العمل كان أحب إلى النبي قالت الدائم كان يقوم إذا سمع الصارخ
صحيح البخاري
1132
أي العمل كان أحب إلى النبي قالت الدائم يقوم إذا سمع الصارخ
صحيح مسلم
1730
يحب الدائم إذا سمع الصارخ قام فصلى
سنن النسائى الصغرى
1617
أي الأعمال أحب إلى رسول الله قالت الدائم أي الليل كان يقوم قالت إذا سمع الصارخ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1730 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1730
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی آدھی رات کو کبھی آدھی رات سے کچھ پہلے یا کچھ وقت بعد میں اٹھتے اور کبھی مرغ کی اذان پر اٹھتے اور وہ مرغ اذان آدھی رات کے بعد دیتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1730]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1617
قیام اللیل (تہجد) کے وقت کا بیان۔
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1617]
1617۔ اردو حاشیہ:
➊ مرغ عموماً آدھی رات کے بعد آواز نکالتا ہے۔ بعض دوسری روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات تک سوتے، پھر تہائی رات جاگتے (نمازپڑھتے) اور، پھر آخری سدس (چھٹا حصہ) سوتے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، التھجد، حدیث: 1131، وصحیح مسلم، الصیام، حدیث: 1159) یہ تقسیم عشاء کے بعد سے فجر کی اذان تک کی ہے کیونکہ مسلمانوں کی یہی رات ہے۔ باقی تو جاگنے، یعنی نمازوں کے اوقات ہیں۔
➋ چونکہ مرغ کی آواز سن کر نیک لوگ نماز کے لیے جاگتے ہیں، لہٰذا اس کی آواز کو لوگ اذان کہہ دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: مرغ فرشتے دیکھ کر آواز نکالتا ہے، لہٰذا تم مرغ کی آواز سن کر یہ کہا: کرو: (اللھم انی اسئلک من فضلک) صحیح البخاری، بدءالخلق، حدیث: 3303 و صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2729) واہ رے مرغ تیری قسمت! نفلی عبادت میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، تعمق سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ورنہ آدمی اکتا جاتا ہے اور اس عمل کو جاری نہیں رکھ سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1617]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1132
1132. حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا: وہ عمل جو ہمیشہ ہوتا رہے۔ میں نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کب اٹھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب مرغ کی آواز سنتے تو اٹھ جاتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس وقت آپ مرغ کی آواز سنتے تو اٹھ کر نماز پڑھتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1132]
حدیث حاشیہ:
کہتے ہیں کہ پہلے پہل مرغ آدھی رات کے وقت بانگ دیتا ہے۔
احمد اور ابو داؤد میں ہے کہ مرغ کو برا مت کہو وہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔
مرغ کی عادت ہے کہ فجر طلوع ہوتے ہی اور سورج کے ڈھلنے پر بانگ دیا کرتا ہے۔
یہ خدا کی فطرت ہے پہلے حضرت امام بخاری ؒ نے حضرت داؤد ؑ کی شب بیداری کا حال بیان کیا۔
پھر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی عمل اس کے مطابق ثابت کیا تو ان دونوں حدیثوں سے یہ نکلا کہ آپ اول شب میں آدھی رات تک سوتے رہتے پھر مرغ کی بانگ کے وقت یعنی آدھی رات پر اٹھتے۔
پھر آگے کی حدیث سے یہ ثابت کیا کہ سحر کو آپ سوتے ہوتے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت داؤد ؑ کا عمل یکساں ہوگیا۔
عراقی نے اپنی کتاب سیرت میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک سفید مرغ تھا۔
واللہ أعلم بالصواب۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1132]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6461
6461. حضرت مسروق سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا: کون سی عبادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب تھی؟ انہوں نے فرمایا: جس عبادت پر ہمیشگی ہو سکے۔ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت (تہجد کے لیے) بیدار ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب مرغ کی آواز سنتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6461]
حدیث حاشیہ:
مرغ پہلی بانگ آدھی رات کے بعد دیتا ہے۔
اس وقت آپ تہجد کے لئے کھڑے ہو جاتے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6461]