صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل:
باب: تہجد میں لمبی قرأت کا مستحب ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 773 ترقیم شاملہ: -- 1816
وحَدَّثَنَاه إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1816]
امام صاحب نے ایک دوسرے استاد سے بھی یہی حدیث نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 773
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد | ثقة حافظ | |
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن علي بن مسهر القرشي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة | |
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد سويد بن سعيد الهروي ← علي بن مسهر القرشي | صدوق يخطئ كثيرا | |
👤←👥إسماعيل بن الخليل الخزاز، أبو عبد الله إسماعيل بن الخليل الخزاز ← سويد بن سعيد الهروي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1816 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1816
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کے نوافل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھنے شروع کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر طویل قیام فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا رہنا مشکل ہو گیا تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بیٹھ جاؤں لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اس لیے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر وتعظیم اور ادب واحترام کے منافی سمجھا،
اس لیے اس کو برے فعل سے تعبیر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں اور میں بیٹھ جاؤں تو یہ ایک ناپسندیدہ طرز عمل ہے اس لیے وہ وقت وکلفت کے باوجود کھڑے رہے اور نفل میں بیٹھنے کی گنجائش سے فائدہ اٹھانا گوارا نہ کیا۔
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کے نوافل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھنے شروع کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر طویل قیام فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا رہنا مشکل ہو گیا تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بیٹھ جاؤں لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اس لیے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر وتعظیم اور ادب واحترام کے منافی سمجھا،
اس لیے اس کو برے فعل سے تعبیر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں اور میں بیٹھ جاؤں تو یہ ایک ناپسندیدہ طرز عمل ہے اس لیے وہ وقت وکلفت کے باوجود کھڑے رہے اور نفل میں بیٹھنے کی گنجائش سے فائدہ اٹھانا گوارا نہ کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1816]
علي بن مسهر القرشي ← سليمان بن مهران الأعمش