صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلاَةِ وَتَعَلُّمِهِ:
باب: نماز میں قرآن پڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 802 ترقیم شاملہ: -- 1872
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ (باہر سے) اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین بڑی فربہ حاملہ اونٹنیاں موجود پائے؟" ہم نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: "تین آیات جنہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے، وہ اس کے لیے تین بھاری بھرکم اور موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1872]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ جب اپنے گھر واپس آئے تو اس میں «ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ» ”تین حاملہ بڑی بڑی فربہ اونٹنیاں“ پائے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آیات جنہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے، وہ اس کے لیے تین حاملہ بھاری بھرکم اور موٹی تازی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1872]
ترقیم فوادعبدالباقی: 802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1872
| أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان قلنا نعم قال فثلاث آيات يقرأ بهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات عظام سمان |
سنن ابن ماجه |
3782
| أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان قلنا نعم قال فثلاث آيات يقرؤهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات سمان عظام |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1872 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1872
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
خَلِفات:
خَلِفَةٌ کی جمع ہے،
اس حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی آدھی مدت حمل گزر چکی ہو۔
(2)
عِظَام:
عظیم کی جمع ہے،
قد و قامت میں بڑی،
سِمَان،
سَمِيْن کی جمع فربہ،
موٹی تازی۔
فوائد ومسائل:
ایک مسلمان کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اور اس میں انتہائی احترام و عقیدت سے قرآءت کرتا ہے ایک آیت کا اجرو ثواب ایک موٹی تازی اور بھاری بھر کم حاملہ اونٹنی کے مل جانے سے بہتر ہے اور اہل عرب کے ہاں اونٹ ہی سب سے اعلیٰ و عمدہ اور قیمتی سواری تھی جو ان کے سفر و حضر،
امن و جنگ کا ساتھی تھا گویا ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی سامان اور اعلیٰ ثروت نیکیاں ہیں جو آخرت کی لازوال زندگی میں کام آنے والی ہیں یہ دنیا کا عارضی و فانی مال نہیں چاہے وہ کتنا ہی قیمتی اور عمدہ کیوں نہ ہو۔
آخر فانی ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
خَلِفات:
خَلِفَةٌ کی جمع ہے،
اس حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی آدھی مدت حمل گزر چکی ہو۔
(2)
عِظَام:
عظیم کی جمع ہے،
قد و قامت میں بڑی،
سِمَان،
سَمِيْن کی جمع فربہ،
موٹی تازی۔
فوائد ومسائل:
ایک مسلمان کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اور اس میں انتہائی احترام و عقیدت سے قرآءت کرتا ہے ایک آیت کا اجرو ثواب ایک موٹی تازی اور بھاری بھر کم حاملہ اونٹنی کے مل جانے سے بہتر ہے اور اہل عرب کے ہاں اونٹ ہی سب سے اعلیٰ و عمدہ اور قیمتی سواری تھی جو ان کے سفر و حضر،
امن و جنگ کا ساتھی تھا گویا ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی سامان اور اعلیٰ ثروت نیکیاں ہیں جو آخرت کی لازوال زندگی میں کام آنے والی ہیں یہ دنیا کا عارضی و فانی مال نہیں چاہے وہ کتنا ہی قیمتی اور عمدہ کیوں نہ ہو۔
آخر فانی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1872]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3782
تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں“؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں (کیوں نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3782]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں“؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں (کیوں نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3782]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید کی تلاوت کا فائدہ اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔
(2)
حاملہ اونٹنیوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس دور میں عربوں کے نزدیک یہ سب سے عمدہ اور قیمتی مال تھا۔
(3)
نماز میں تلاوت کا ثواب نماز کے علاوہ تلاوت سے زیادہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید کی تلاوت کا فائدہ اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔
(2)
حاملہ اونٹنیوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس دور میں عربوں کے نزدیک یہ سب سے عمدہ اور قیمتی مال تھا۔
(3)
نماز میں تلاوت کا ثواب نماز کے علاوہ تلاوت سے زیادہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3782]
Sahih Muslim Hadith 1872 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي