Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب فضل قراءة القرآن وسورة البقرة:
باب: قرأت قرآن اور سورۂ بقرہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 805 ترقیم شاملہ: -- 1876
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ، تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ: كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ".
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اس کے آگے آگے ہوں گی۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں دیں جن کو (سننے کے بعد) میں (آج تک) نہیں بھولا، آپ نے فرمایا: "جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے، جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں، وہ اپنے صاحب (صحبت میں رہنے والے) کی طرف سے مدافعت کریں گی۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1876]
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فرما رہے تھے: قیامت کے دن قرآن کو اور قرآن والوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے، سورہ بقرہ اورسورہ آل عمران وہ پیِش پیش ہوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں دیں جن کو (سننے کے بعد) میں (آج تک) نہیں بھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دو سیاہ سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی اور نور ہے گویا کہ وہ دو صف باندھے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہیں، وہ ا پنے سے تعلق ورشتہ رکھنے والوں کی طرف سے وکالت کریں گی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1876]
ترقیم فوادعبدالباقی: 805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نواس بن سمعان الكلابيصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← نواس بن سمعان الكلابي
ثقة
👤←👥الوليد بن عبد الرحمن الجرشي
Newالوليد بن عبد الرحمن الجرشي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥محمد بن المهاجر الأشهلي
Newمحمد بن المهاجر الأشهلي ← الوليد بن عبد الرحمن الجرشي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← محمد بن المهاجر الأشهلي
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد ربه الجرجسي، أبو الفضل
Newيزيد بن عبد ربه الجرجسي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← يزيد بن عبد ربه الجرجسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1876
يؤتى بالقرآن يوم القيامة وأهله الذين كانوا يعملون به تقدمه سورة البقرة و آل عمران وضرب لهما رسول الله ثلاثة أمثال ما نسيتهن بعد قال كأنهما غمامتان أو ظلتان سوداوان بينهما شرق أو كأنهما حزقان من طير صواف تحاجان عن صاحبهما
جامع الترمذي
2883
يأتي القرآن وأهله الذين يعملون به في الدنيا تقدمه سورة البقرة وآل عمران وضرب لهما رسول الله ثلاثة أمثال ما نسيتهن بعد قال تأتيان كأنهما غيابتان وبينهما شرق أو كأنهما غمامتان سوداوان أو كأنهما ظلة من طير صواف تجادلان عن صاحبهما
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1876 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1876
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
تَقْدُمُهُ:
قرآن کے آگے آگے ہوں گے۔
(2)
شَرْقٌ:
روشنی،
نور۔
(3)
حِزْقَانِ:
دو گروہ،
دو قطاریں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
اہل قرآن وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کی محض قرآءت و تلاوت پر کفایت نہیں کرتے،
بلکہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور بار بار تلاوت کا اصلی مقصد یہی ہے کہ قرآنی ہدایات واحکامات ہر وقت پیش نظر رہیں اور سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران میں زندگی گزارنے کے بارے میں تمام سورتوں سے زیادہ اصول وضوابط اور ہدایات و تعلیمات ملتی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1876]