یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب بيان انه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون وان محبة المؤمنين من الإيمان وان إفشاء السلام سبب لحصولها:
باب: جنت میں صرف مومن جائیں گے، اور مومنوں سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے، اور سلام کو عام کرنا محبت کا سبب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 54 ترقیم شاملہ: -- 195
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٍ.
(ابومعاویہ اور وکیع کے بجائے) جریر نے اعمش سے ان کی اسی سند سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے، جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے...“ جس طرح ابومعاویہ اور وکیع کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے یہ حدیث یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے جنّت میں داخل نہیں ہو گے۔“ آگے کی عبارت ابو معاویہ رحمہ اللہ اور وکیع رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 54
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12349)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد | ثقة حافظ | |
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله جرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 195 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 195
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنت میں داخل ایمان پر موقوف ہے،
اور ایمان کی پہچان اور علامت باہمی محبت وپیار ہے،
اور باہمی محبت ومودت پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک مسلمان کو سلام کیا جائے،
اس سے جان پہچان ہو یانہ ہو،
اس سے محبت والفت پیدا ہوگی،
عداوت وشمنی مٹے گی،
کیونکہ سلام کا معنی ہے اللہ تعالیٰ تم کو ہر بلا ومصیبت سے محفوظ اور سلامت رکھے اور انسان کی عام عادت ہے کہ وہ اپنے خیر خواہ اور دعا گو سے محبت کرتا ہے،
اس کو دوست سمجھتا ہے۔
فوائد ومسائل:
جنت میں داخل ایمان پر موقوف ہے،
اور ایمان کی پہچان اور علامت باہمی محبت وپیار ہے،
اور باہمی محبت ومودت پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک مسلمان کو سلام کیا جائے،
اس سے جان پہچان ہو یانہ ہو،
اس سے محبت والفت پیدا ہوگی،
عداوت وشمنی مٹے گی،
کیونکہ سلام کا معنی ہے اللہ تعالیٰ تم کو ہر بلا ومصیبت سے محفوظ اور سلامت رکھے اور انسان کی عام عادت ہے کہ وہ اپنے خیر خواہ اور دعا گو سے محبت کرتا ہے،
اس کو دوست سمجھتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 195]
Sahih Muslim Hadith 195 in Urdu
جرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش