🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب:
باب: جمعہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 844 ترقیم شاملہ: -- 1954
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1954]
مصنف نے اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1954]
ترقیم فوادعبدالباقی: 844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1954 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1954
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اہل ظاہر کا موقف یہ ہے کہ جمعہ کے لیے غسل کرنا فرض ہے،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول یہی ہے،
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا خیال ہے جمعہ کی صحت کے لیے غسل شرط نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستقل فرض ہے حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ ہے کہ اگر انسان کو پسینہ آتا ہو،
جو دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہو،
یعنی کام کاج کرنے والے لوگ جن کے بدن سے بدبو اٹھ سکتی ہے۔
ان کے لیے غسل کرنا فرض ہے بہر حال آداب واخلاق اور جمعہ کے احترام کا تقاضا یہی ہے کہ جمعہ کے لیے غسل کیا جائے اگرچہ جمہور کے نزدیک غسل کرنا سنت مستحبہ ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہی ہے،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ امام لیث رحمۃ اللہ علیہ اور امام اوازعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک غسل جمعہ کے لیے جاتے وقت کرنا چاہیے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کا تقاضا یہی ہے اور جمہور کے نزدیک صبح کے بعد جب چاہے غسل کر سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1954]

Sahih Muslim Hadith 1954 in Urdu