🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب وجوب غسل الجمعة على كل بالغ من الرجال وبيان ما امروا به:
باب: ہر بالغ مرد پر غسل جمعہ فرض ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 847 ترقیم شاملہ: -- 1959
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ النَّاسُ أَهْلَ عَمَلٍ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ كُفَاةٌ فَكَانُوا يَكُونُ لَهُمْ تَفَلٌ، فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ کام کا ج والے تھے ان کے نوکر چاکر نہ ہو تے تھے وہ ایسے تھے کہ ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا: کیا ہی اچھا ہو کہ تم جمعے کے دن نہا لیا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1959]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،لوگ کام کاج کرتے تھے، ان کے نوکرچاکر نہیں تھے، ان سے بدبو اٹھتی تھی تو ان سے کہا گیا، اے کاش! تم جمعہ کے دن نہا لیا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 847
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1959 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1959
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يَنَتَابُونَ الجُمُعَة:
وہ یکے بعد دیگرے جمعہ کے لیے آتے تھے،
اس لیے باری باری آنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ کبھی کچھ آتے اور کبھی دوسرے آتے،
کیونکہ نسائی شریف کی روایت میں يَحضُرُونً کا لفظ ہے اور مِن مَنَازِلِهِم،
اپنے گھروں سے آتے تھے،
بھی اس کا قرینہ ہے۔
(2)
عوالي:
مدینہ کے ان مضافات کو کہتے ہیں،
جو بلند تھے،
اور تین،
چار سے سات،
آٹھ میل تک واقع تھے۔
(3)
العباء:
عبائة کی جمع ہے اونی چادر کو کہتے ہیں،
اس وقت لوگ اونٹ کے بالوں سے بناتے تھے۔
(4)
كفاة:
كاف کی جمع ہے،
نوکر چاکر جو انسان کو کام کاج کے لیے کفایت کرتے ہیں۔
(5)
تفل:
بدبو،
کام کاج کے کپڑے،
جب پسینہ آتا ہے تو ان سے بدبو محسوس ہوتی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں جمعہ کے لیے غسل کرنے کا پس منظر اور سبب بتایا گیا ہے،
اس لیے جمہور علماء اس پس منظر کی بناء پر غسل کو ضرورت پر محمول کرتے ہیں اس کو جمعہ کے لیے ہر ایک کے لیے لازم قرارنہیں دیتے۔
لیکن جس طرح حج میں رمل مشرکین کے سامنے قوت کے اظہار کے لیے کیا گیا تھا۔
لیکن اس کے بعد اس کو باقی رکھا گیا۔
اسی طرح شروع میں تو سبب یہی تھا لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم عام دے دیا۔
جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1959]

Sahih Muslim Hadith 1959 in Urdu