علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب هداية هذه الامة ليوم الجمعة:
باب: اس امت کو جمعہ کے دن کی ہدایت (توفیق) کا ملنا۔
ترقیم عبدالباقی: 855 ترقیم شاملہ: -- 1979
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " بِمِثْلِهِ.
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے ابوزناد سے حدیث سنائی انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی نیز (سفیان نے عبداللہ) بن طاوس سے انہوں نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہوں گے۔۔۔“ اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1979]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے آگے ہوں گے۔ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1979 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1979
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آدم علیہ السلام سے نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کے لیے آسمانی ہدایات کا انتظام کیاگیا اور ہر دور میں اپنے اپنے وقت پر انسانوں کی رہنمائی کے لیے نبی اوررسول آتے رہے اور ان کی امتیں بنتی گئیں۔
ان میں سے تین امتیں سب سےبرتر ہیں اور ان کے انبیاء علیہ السلام اولوالعزم رسول ہیں،
اور سب سے آخر میں آنےوالی امت۔
امت مسلمہ ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ خیر الامم ہونے کی بنا پر قیامت کے دن ہرمعاملہ میں پیش پیش ہوگی۔
بید کے معنی تین بن سکتے ہیں۔
اس کا معنی اگر غیر کر لیں تو نص ہوگا کہ پہلی امتوں کو یہ جزوی فضیلت اور برتری حاصل ہے۔
کہ ان کو اللہ کی کتاب ہم سے پہلے ملی،
اور اگر اس کا معنی علی یا مع کریں تو معنی ہوگا اس کے باوجود کہ دہ دنیا میں کتاب پہلے دئے گئے۔
ہمیں آخرت میں ان پر سبقت اورتقدم حاصل ہو گا۔
اگر اس کا معنی اجل لیں تو معنی ہوگا ہم اس لیے آخر میں ہیں کیونکہ انہیں کتاب ہم سے پہلے عنایت کی گئی۔
ہفتہ میں ایک دن اجتماع ومسرت اورعید کا ہوتا ہے۔
اس میں ہمیں بڑی امتوں یہودونصاریٰ پر تقدم حاصل ہے۔
یہودیوں کے اجتماع اور عید کا دن ہفتہ ہے اور عیسائیوں کا اتوار جبکہ ہمارا عید کا دن یا ہفتہ وار اجتماع اورعبادت کا دن جمعہ ہے جو ان سے پہلے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل وکرم اور اس کی ہدایت وتوفیق کانتیجہ ہے کہ ہم نے ہفتہ واری عید اوراجتماع کے لیے اس دن کاانتخاب کیا۔
اور یہود ونصاریٰ کی طرح اللہ تعالیٰ کے اس مطلوب اورمحبوب دن کو نظر انداز نہیں کیا۔
فوائد ومسائل:
آدم علیہ السلام سے نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کے لیے آسمانی ہدایات کا انتظام کیاگیا اور ہر دور میں اپنے اپنے وقت پر انسانوں کی رہنمائی کے لیے نبی اوررسول آتے رہے اور ان کی امتیں بنتی گئیں۔
ان میں سے تین امتیں سب سےبرتر ہیں اور ان کے انبیاء علیہ السلام اولوالعزم رسول ہیں،
اور سب سے آخر میں آنےوالی امت۔
امت مسلمہ ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ خیر الامم ہونے کی بنا پر قیامت کے دن ہرمعاملہ میں پیش پیش ہوگی۔
بید کے معنی تین بن سکتے ہیں۔
اس کا معنی اگر غیر کر لیں تو نص ہوگا کہ پہلی امتوں کو یہ جزوی فضیلت اور برتری حاصل ہے۔
کہ ان کو اللہ کی کتاب ہم سے پہلے ملی،
اور اگر اس کا معنی علی یا مع کریں تو معنی ہوگا اس کے باوجود کہ دہ دنیا میں کتاب پہلے دئے گئے۔
ہمیں آخرت میں ان پر سبقت اورتقدم حاصل ہو گا۔
اگر اس کا معنی اجل لیں تو معنی ہوگا ہم اس لیے آخر میں ہیں کیونکہ انہیں کتاب ہم سے پہلے عنایت کی گئی۔
ہفتہ میں ایک دن اجتماع ومسرت اورعید کا ہوتا ہے۔
اس میں ہمیں بڑی امتوں یہودونصاریٰ پر تقدم حاصل ہے۔
یہودیوں کے اجتماع اور عید کا دن ہفتہ ہے اور عیسائیوں کا اتوار جبکہ ہمارا عید کا دن یا ہفتہ وار اجتماع اورعبادت کا دن جمعہ ہے جو ان سے پہلے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل وکرم اور اس کی ہدایت وتوفیق کانتیجہ ہے کہ ہم نے ہفتہ واری عید اوراجتماع کے لیے اس دن کاانتخاب کیا۔
اور یہود ونصاریٰ کی طرح اللہ تعالیٰ کے اس مطلوب اورمحبوب دن کو نظر انداز نہیں کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1979]
Sahih Muslim Hadith 1979 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← أبو هريرة الدوسي