صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس:
باب: سورج ڈھلنے کے وقت جمعہ کی نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 858 ترقیم شاملہ: -- 1990
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : " مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَى جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا "، زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: " حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ " يَعْنِي النَّوَاضِحَ.
قاسم بن زکریا نے کہا: ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی، نیز عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حسان نے حدیث بیان کی، ان دونوں (خالد اور یحییٰ) نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال نے جعفر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (محمد) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت جمعہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جمعہ پڑھاتے، پھر ہم اونٹوں کے پاس جاتے، پھر انہیں آرام کا وقت دیتے۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: جس وقت سورج ڈھل جاتا۔ (جمال سے مراد) تواضح، یعنی پانی لانے والے اونٹ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1990]
جعفر کے والد محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کس وقت پڑھتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ پڑھاتے، پھر ہم اپنے پانی لادنے کے اونٹوں کے پاس جاتے اور انہیں آرام پہنچاتے۔“ عبداللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”جس وقت سورج ڈھل جاتا۔“ «جِمَال» سے مراد «نَوَاضِحُ» ہے، جس کا مطلب پانی لادنے والے اونٹ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 858
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 1990 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري